بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آن لائن فراڈ، دھوکا دہی میں پنجاب سب سے آگے

پاکستان بھر میں واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے اکائونٹس ہیک کر کے دھوکا دہی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس نے سائبر سکیورٹی(cybersecurity) اور عوامی آگاہی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔
2025ء میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ لی تھی جس کے قیام سائبر جرائم اور آن لائن مالیاتی دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے مقدمات سے نمٹنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کے متعدد متاثرین نے مالی نقصان کی بھی اطلاع دی ہے، گریڈ 20 کے سرکاری افسر محمد افضل احمد نے بتایا کہ ہیکرز نے ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ذریعے دوستوں اور رشتہ داروں سے رقم طلب کی جس پر کئی افراد نے موبائل بینکنگ سروسز کے ذریعے رقم منتقل کردی۔

رضوان انور کے نام سے جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنایا گیا جس کے ذریعے انکے جاننے والوں سے رقم مانگی گئی، مکینک شاہد علی کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ذریعے لوگوں سے پانچ لاکھ روپے وصول کر لیے۔

ان کا کہنا تھا شکایت کرائی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی‘ گورنمنٹ کالج میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروفیسر عامر نسیم کے مطابق این سی سی آئی اے کے پاس جدید آلات اور اپ ڈیٹڈ نظام موجود نہیں جس کے باعث ہیکرز کا سراغ لگانا مشکل ہے۔

مزیدپڑھیں:قیدی وین سے ملزمان کے فرار ہونے پر آئی جی پنجاب کا بڑا ایکشن، افسران اور اہلکار معطل

ایف آئی اے کے فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ باضابطہ معاہدے نہیں، جس سے تحقیقات میں مزید مشکلات پیش آتی ہیں۔

دی ایکسپریس ٹریبیون کو دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق، 2024 میں واٹس ایپ، فیس بک، مالیاتی فراڈ اور آن لائن دھوکہ دہی سے متعلق3 لاکھ 80 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں ان میں سے 63 فیصد شکایات پنجاب سے جبکہ باقی 37 فیصد دیگر صوبوں سے آئیں۔

2025 میں ادارے کو دو لاکھ 54 ہزار 930 شکایات موصول ہوئیں، شہریوں کی جانب سے فون کالز یا ای میلز کے ذریعے ہونیوالی مبینہ دھوکہ دہی کی اطلاع دینے یا معلومات حاصل کرنے کیلیے پانچ لاکھ سے زائد فون کالز بھی موصول ہوئیں۔

مالیاتی فراڈ سے متعلق 85 ہزار سے زائد جبکہ براہِ راست ہیکنگ کے واقعات سے متعلق 25 ہزار سے زیادہ شکایات ریکارڈ کی گئیں۔

فروری 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ماہ سوشل میڈیا ہیکنگ اور فراڈ سے متعلق 500 سے 700 شکایات موصول ہو رہی ہیں حکام کے مطابق صرف پنجاب میں روزانہ دو ہزار سے زائد فون کالز اور ای میلز ہیکنگ یا سائبر فراڈ سے متعلق مدد کے لیے موصول ہو رہی ہیں۔