اہم ریاستی انتخابات سے قبل رام مندر(Ram Temple) میگا کرپشن کیس مودی حکومت کی رسوائی کا سبب بن گیا۔
عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق رام مندرکی انتظامیہ نے ہندوؤں کے دیے گئے عطیات میں سے لاکھوں ڈالر کی ہیرا پھیری کی۔
1992 میں انتہا پسند ہندو ہجوم کے ہاتھوں شہید کی جانے والی بابری مسجد کی جگہ مودی حکومت نے رام مندر بنایا تھا، مندر میں کرپشن نے خود کو ہندو عقیدے کی محافظ کہنے والی جماعت بی جے پی کے بیانیے کو خاک میں ملا دیا۔

بھارتی جریدہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اکھلیش یادو نے مودی پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کیلئے قوم پہلے نہیں بلکہ چندہ پہلے ہے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے نے رام مندر میں تقریباً 5,000 کروڑ روپے تک کی کرپشن کا انکشاف کیا۔
مزیدپڑھیں:ڈریپ نے انٹرنیشنل فارماسیوٹیکل ریگولیٹرز پروگرام کی رکنیت حاصل کر لی
سیاسی تجزیہ کار رشید قدوائی کا کہنا تھا کہ بی جے پی طویل عرصے سے رام مندر مہم کو ایک مرکزی سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کرتی آئی ہے، مود ی کی سرپرستی میں رام مندر کرپشن کیس نے مذہب کے نام پر جاری دھوکہ دہی کو بے نقاب کردیا ہے۔








