بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بجلی کی ہلکی سی کڑک بھی فٹبال ورلڈ کپ کا میچ کیوں روک دیتی ہے؟

امریکا میں ہونے والے ورلڈ کپ(Footballworldcup) کے میچوں کے دوران اگر اسٹیڈیم کے قریب آسمانی بجلی گرنے کا خطرہ پیدا ہو جائے تو کھیل کو فوری طور پر روک دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی حفاظتی قوانین پر عمل کیا جاتا ہے تاکہ کھلاڑیوں، آفیشلز، عملے اور شائقین کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق قوانین کے تحت اگر اسٹیڈیم سے آٹھ میل یعنی تقریباً 13 کلومیٹر کے دائرے میں آسمانی بجلی گرنے کا پتہ چل جائے تو میچ فوراً معطل کر دیا جاتا ہے۔ کھیل اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا جب تک مسلسل 30 منٹ تک مزید کوئی بجلی نہ گرے۔ اگر اس دوران دوبارہ بجلی گر جائے تو 30 منٹ کی گنتی نئے سرے سے شروع ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آسمانی بجلی ہمیشہ اسی جگہ نہیں گرتی جہاں بارش یا طوفان موجود ہو۔ یہ کئی کلومیٹر دور بھی گر سکتی ہے، اسی لیے اگر گرج کی آواز سنائی دے تو اس کا مطلب ہے کہ بجلی کا خطرہ موجود ہے۔ امریکی ادارہ نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ گرج چمک کے دوران کھلے آسمان تلے کوئی جگہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتی، اس لیے لوگوں کو مضبوط عمارت کے اندر چلے جانا چاہیے۔

نیشنل لائٹننگ سیفٹی کونسل سے وابستہ ماہر موسمیات کرس ویگاسکی کے مطابق زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ آسمانی بجلی صرف براہ راست انسان پر گرنے سے نقصان پہنچاتی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا کم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق بجلی کے اثرات دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:یاسمین راشد کے انتقال کی خبریں،پی ٹی آئی کی وضاحت آگئی

اسٹیڈیم کے اندر بھی خطرے کی نوعیت اس کی تعمیر پر منحصر ہوتی ہے۔ جن اسٹیڈیمز کی چھت مکمل طور پر بند ہوتی ہے، وہاں لوگوں کو نسبتاً زیادہ تحفظ حاصل ہوتا ہے کیونکہ عمارت کا ڈھانچہ بجلی کے اثرات کو محفوظ طریقے سے زمین تک منتقل کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس ایسے اسٹیڈیم جہاں صرف تماشائیوں کی نشستوں پر چھت ہو یا جو مکمل طور پر کھلے ہوں، وہاں کھلاڑی، شائقین اور دیگر افراد زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

تاریخی اعداد و شمار کے مطابق مختلف شہروں میں آسمانی بجلی گرنے کی شرح بھی ایک جیسی نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ سان فرانسسکو اور سیئیٹل کے مقابلے میں میامی اور کنساس سٹی کے علاقوں میں ورلڈ کپ کے دوران آسمانی بجلی کی سرگرمی زیادہ دیکھی گئی ہے، جبکہ ان مقامات پر مکمل بند چھت والے اسٹیڈیم بھی موجود نہیں ہیں۔

جب بجلی گرنے کا الرٹ جاری کیا جاتا ہے تو شائقین کو اسٹیڈیم کے محفوظ حصوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جیسے بند راہداریاں یا عمارت کے اندر موجود ایسی جگہیں جہاں دیواریں، چھت، بجلی اور پانی کا نظام موجود ہو۔ ماہرین کے مطابق اگر بجلی گرے تو عمارت کا ڈھانچہ اس کے اثرات کو لوگوں تک پہنچنے کے بجائے اپنی تاروں اور پائپوں کے ذریعے زمین تک منتقل کر دیتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ کئی اسٹیڈیمز میں بجلی سے بچاؤ کے لیے خصوصی نظام نصب ہوتے ہیں، لیکن آسمانی بجلی ہمیشہ متوقع جگہ پر نہیں گرتی، اس لیے گرج چمک کے دوران کھلی نشستوں پر بیٹھنا محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔

اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں دوپہر اور شام کے ابتدائی اوقات میں آسمانی بجلی کی سرگرمی زیادہ ہوتی ہے، جبکہ اکثر میچ بھی انہی اوقات میں کھیلے جاتے ہیں، اس لیے احتیاطی اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

یہ خطرہ صرف اسٹیڈیم تک محدود نہیں ہوتا۔ ورلڈ کپ کے دوران فین فیسٹیولز، بڑی اسکرینوں پر میچ دیکھنے کی جگہوں، ٹرانسپورٹ مراکز اور دیگر عوامی مقامات پر بھی ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں، جہاں کھلے ماحول میں موجود لوگوں کو بھی آسمانی بجلی سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایک آسان اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے، اگر آپ کو گرج کی آواز سنائی دے رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آسمانی بجلی آپ کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے فوری طور پر کسی محفوظ عمارت کے اندر منتقل ہو جانا چاہیے۔