بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ

عالمی منڈی میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں(Gold Rates) میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ امریکہ میں روزگار سے متعلق توقعات سے کمزور اعداد و شمار اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے،سرمایہ کار اب امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ کے انتظار میں ہیں، جو فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے بارے میں اہم اشارے فراہم کر سکتی ہے۔

اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے بعد 4,057.92 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ جون کے بعد کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی  امریکی سونے کے فیوچرز معمولی کمی کے ساتھ 4,070.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔

بدھ کے روز سونا تقریباً سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد 4,029.89 ڈالر پر بند ہوا، تاہم بعد میں پرائیویٹ سیکٹر کی کمزور روزگار رپورٹ کے باعث قیمتوں میں بہتری آئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق امریکی نجی شعبے میں ملازمتوں میں اضافہ 98 ہزار رہا، جو کہ مارکیٹ کی توقعات سے کم تھا،اس ڈیٹا کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ توقع بڑھ گئی ہے کہ آئندہ سرکاری اعداد و شمار بھی کمزور ہو سکتے ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق پالیسی پر اثر پڑ سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:زرافے بھی حساب کتاب کے ماہر نکلے

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا عام طور پر افراط زر سے بچاؤ کے لیے محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ کوئی منافع نہیں دیتا۔

دوسری جانب فیڈرل ریزرو کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں افراط زر کے خدشات میں کمی آئی ہے، تاہم مرکزی بینک کا ہدف اب بھی 2 فیصد افراط زر برقرار رکھنا ہے۔

ادھر خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی سونے کی منڈی پر اثر ڈالا ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہیں، جو عالمی مالیاتی منڈیوں کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔