لاہور(نادرچوہدری) صوبائی دارالحکومت لاہور(Lahore) میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء، زیادتی اور بھاری تاوان طلب کرنے کے الزام میں اہم شخصیت کے نواسے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے ۔
دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق مقدمہ متاثرہ خواتین کی شکایت اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ایک اہم شخصیت کے نواسے سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

تھانہ ڈیفنس سی میں درج ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خواتین کا تعلق ہالینڈ اور وینزویلا سے ہے۔ الزام ہے کہ مرکزی ملزم رضا ڈار نے خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور ان کے پاکستانی ویزوں کے انتظامات بھی کئے۔ پاکستان پہنچنے کے بعد ملزمان نے مبینہ طور پر دونوں خواتین کو اغواء کر لیا، ان سے زیادتی کی اور رہائی کے بدلے ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔
مزیدپڑھیں:مقبوضہ بیت المقدس، اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمین ایک ڈالر میں امریکا کو دیدی
پولیس کے مطابق ہالینڈ میں موجود ایک متاثرہ خاتون کے والد نے پاکستان کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کرکے اپنی بیٹی کے اغوا کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایمرجنسی کال موصول ہونے کے بعد لاہور پولیس کو دو گھنٹوں میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا گیا، جس کے بعد دونوں مغوی خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
پولیس کے مطابق اب تک چار ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ادھر غیر ملکی خواتین کے اغواء کیس میں بروقت کارروائی نہ کرنے پر ایس ایچ اوتھانہ ڈیفنس سی فریاد کو معطل کرکے پولیس لائن رپورٹ کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔ واقعے کی مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا









