دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ ویو (Heat Wave)سے نمٹنے کے لیے عام طور پر ایئر کنڈیشنرز کا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن چین نے اپنے گنجان آباد شہروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک ایسا انوکھا اور سستا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔
چین کے شمالی صوبے شانسی کے شہر یونچینگ میں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر ایک خاص کولنگ سسٹم لگایا گیا ہے جسے ’روف ٹاپ رین‘ یا چھت کی بارش کا نام دیا گیا ہے۔
اس سسٹم کے تحت عمارتوں کی چھتوں پر نصب ہائی پریشر نوزلز (اسپرے کرنے والے پرزے) ہوا میں پانی کی انتہائی باریک پھوار چھوڑتے ہیں۔ یہ ٹھنڈی پھوار عمارت کے ارد گرد کے درجہ حرارت کو 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کر دیتی ہے۔
یہ انوکھا نظام سائنس کے ایک سادہ اصول ’ایواپوریٹو کولنگ‘ پر کام کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہمارے جسم سے پسینہ نکلنے کے بعد جب وہ ہوا میں اُڑتا ہے تو ہمیں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ جب چھت سے پانی کے انتہائی باریک قطرے گرم ہوا کے ملاپ میں آتے ہیں، تو وہ ہوا کی تپش کو اپنے اندر جذب کر کے بھاپ بن جاتے ہیں، جس سے آس پاس کا پورا ماحول یکدم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
یہ سسٹم صرف شدید گرم دنوں میں چلایا جاتا ہے تاکہ پانی نیچے سے گزرنے والے پیدل افراد پر بارش کی طرح نہ گرے بلکہ ہوا میں ہی غائب ہو جائے۔پانی کی قلت دور کرنے کیلئے امارات میں مصنوعی بارشوں کیلئے نیا منصوبہ تیار
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر کالعدم کمیٹی کا پولیس اہلکاروں پر تشدد، وردیاں لٹکائیں
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد یورپ اور امریکہ کے کروڑوں لوگ حیران ہیں کہ یہ سستا نظام پوری دنیا میں کیوں استعمال نہیں کیا جا رہا۔








