بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’نہیں‘ کہنا سیکھیں، حاجرہ یامین کا شوبز میں آنے والی لڑکیوں کو مشورہ

معروف پاکستانی اداکارہ حاجرہ یامین(Hajra Yamin) نے کہا ہے کہ وہ اپنے فن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتیں اور ہر نئے کردار کو اپنے سابقہ کرداروں سے مکمل طور پر مختلف انداز میں پیش کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے حاجرہ یامین کا کہنا تھا کہ اداکاری محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک جذباتی ذمہ داری ہے، اسی لیے وہ ہر کردار کے انتخاب میں انتہائی احتیاط سے کام لیتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک بار کسی جذبے یا کردار کو نبھانے کے بعد وہ اسے دوبارہ اسی انداز میں دہرانا پسند نہیں کرتیں۔

انہوں نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں فنکاروں پر بڑھتے ہوئے کام کے دباؤ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مسلسل مصروف شیڈول کے باعث معیاری مواد کی تخلیق متاثر ہوتی ہے حالانکہ انڈسٹری میں باصلاحیت فنکاروں کی کوئی کمی نہیں۔

حاجرہ یامین نے اپنی پیشہ ورانہ شناخت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر مقام حاصل کیا ہے اور کبھی کسی مخصوص آن اسکرین جوڑی کا حصہ بن کر اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے خواتین مداحوں کی جانب سے ملنے والی حمایت کو اپنی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسا کام کرنا چاہتی ہیں جو خواتین کو متاثر کرے اور ان کے لیے مثبت مثال بن سکے۔

اداکارہ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ آنے والی نسل کی لڑکیوں کے لیے ایک مضبوط ورثہ چھوڑیں اور زیادہ سے زیادہ خواتین کے ساتھ تخلیقی منصوبوں پر کام کریں۔ انہوں نے شوبز میں قدم رکھنے والی نئی لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں اور ضرورت پڑنے پر ’نہیں‘ کہنے سے نہ ہچکچائیں۔

مزیدپڑھیں:اداکارہ اسماء عباس کا 60 سال سے زائد عمر کی تنہا خواتین کو شادی کرنے کا مشورہ

اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حاجرہ یامین نے کہا کہ کامیاب خواتین کو اکثر غیرمعمولی سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ بھی عام انسان ہوتی ہیں جن کے خواب اور جدوجہد دیگر لوگوں کی طرح ہوتی ہے۔

انہوں نے خواتین کے تحفظ اور صنفی مساوات کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو سب سے پہلے اپنے گھر میں محفوظ ماحول ملنا چاہیے کیونکہ مضبوط خاندانی تعاون ہی انہیں معاشرے کے دیگر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔

حاجرہ یامین نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں خصوصاً بچیوں کی بات پر یقین کریں اور ہراسانی یا تشدد کے واقعات پر خاموشی اختیار نہ کریں کیونکہ خاموشی بھی ایک طرح کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے خاتمے کے لیے مردوں کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق چونکہ معاشرے میں مردوں کی آواز کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اس لیے بااثر مردوں کو چاہیے کہ وہ خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے کھل کر آواز بلند کریں۔