پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر احمد شہزاد(Ahmad Shahzad) نے بابر اعظم کے دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ بابر اعظم کی کپتانی میں دلچسپی کی وجہ سے ہوا ہے۔
جیو سپر پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احمد شہزاد نے کہا کہ بابر اعظم کو دوبارہ کپتان بنایا گیا، حالانکہ وہ پہلے بھی بطور کپتان کامیاب ثابت نہیں ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم نے گزشتہ 30 سے 32 اننگز میں تقریباً 550 رنز بنائے تھے اور اس دوران ان کی بیٹنگ فارم پر بھی مسلسل سوالات اٹھ رہے تھے، اس کے باوجود انہیں دوبارہ قیادت سونپ دی گئی۔
“BABAR AZAM KO BAS KAPTAANI KA SHOQ HY…” – Ahmed Shahzad. #PakistanCricket pic.twitter.com/0vivXodBmL
— Arfa Feroz Zake (@ArfaSays_) July 6, 2026
احمد شہزاد کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے یہ بات کی جا رہی تھی کہ کپتانی کے باعث بابر اعظم کی بیٹنگ متاثر ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں ایک بار پھر کپتان مقرر کر دیا گیا، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی دوبارہ کپتانی کے خواہش مند تھے۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کو کپتانی پسند ہے کیونکہ اس کے ساتھ شہرت، اختیارات اور دیگر سہولتیں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:امریکی ٹک ٹاکر ڈریم ڈول بری فائرنگ میں ہلاک
احمد شہزاد نے کہا کہ کپتان کو خصوصی مراعات، الگ رہائش، زیادہ اختیارات اور بہتر الاؤنسز ملتے ہیں، جس کی وجہ سے بابر اعظم اس سے وابستہ ہو گئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بابر اعظم نے کپتانی صرف پاکستان کی خاطر قبول کی، اگر ان کی کارکردگی کپتانی کے باعث متاثر ہو رہی تھی تو انہیں خود قیادت سے الگ ہو کر کسی نوجوان یا دوسرے کھلاڑی کو موقع دینا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے دوبارہ یہ ذمے داری قبول کر لی۔








