بھارتی حکومت کی ملاوٹ شدہ پیٹرول پالیسی(Petrol policy) کے خلاف عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے، گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بھی تنقید کی زد میں آگئیں۔
بھارت میں حکومت کی لازمی 20 فیصد ایتھنول ملاوٹ شدہ پیٹرول کی پالیسی ایک بار پھر شدید تنازع کا باعث بن گئی ہے۔
عوام، خصوصاً گاڑیوں کے مالکان، کا مؤقف ہے کہ انہیں بغیر ایتھنول والا پیٹرول خریدنے کا اختیار نہیں دیا جا رہا جبکہ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ E20 کے استعمال سے گاڑیوں کی فیول ایفیشنسی کم ہوئی ہے اور ان کے پرزے زیادہ تیزی سے گھِس رہے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب حکومت کے ایک سینئر وکیل نے عدالت میں ملاوٹ شدہ پیٹرول ای 20 کو’تجربہ‘ قرار دیا، اگرچہ بعد میں انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔
اپوزیشن رہنما اروند کیجریوال نے بھی حکومت اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کئی پرانے ماڈلز صرف ای 10پیٹرول کے لیے موزوں ہیں، اس لیے عوام کو اپنی پسند کا پیٹرول منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ای20 پالیسی سے خام تیل کی درآمدات کم ہوں گی، گنے کے کاشتکاروں کو فائدہ ہوگا اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی۔
مزید پڑھیں:بابر اعظم کی کپتانی سے اچھے نتائج کی امید ہے: سرفراز احمد
تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کو جلد بازی میں نافذ کیا گیا، جبکہ تمام گاڑیاں ابھی ای 20 کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں تھیں۔








