بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایف بی آر نے ان لینڈ ریونیو افسران کے چھوٹی دکانوں میں داخلے پر پابندی لگا دی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (Federal Board of Revenue – FBR) نے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار کا مسودہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایف بی آر کی جاری کردہ تعمیلی دکاندار پلیٹ (گرین پلیٹ) اپنی دکان کے باہر نمایاں طور پر آویزاں کرنے والے اہل دکانداروں کی دکانوں میں ٹیکس معاملات کے سلسلے میں ان لینڈ ریونیو افسران داخل نہیں ہوں گے۔

ایف بی آر نے ایس آر او 1109(I)/2026 کے ذریعے مجوزہ خصوصی طریقہ کار جاری کیا ہے، جس کا اطلاق ٹیکس سال 2026 پر ہوگا۔ اس اسکیم کے تحت چھوٹے دکاندار آئیرس (IRIS) ویب پورٹل یا دکانداروں کی موبائل ایپ کے ذریعے ایک سادہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرا سکیں گے، جس میں مجموعی فروخت، مجموعی خریداری، دیگر اخراجات، خالص منافع اور جائز اثاثوں کی تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔ یہ فارم اردو سمیت علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب ہوگا۔

مجوزہ طریقہ کار کے مطابق مجموعی کاروباری حجم (گراس ٹرن اوور) پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ دکاندار قابلِ ادائیگی ٹیکس میں سے ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی رقم منہا کر سکیں گے۔

ایف بی آر کے مطابق اس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ اور اہل حقیقی دکانداروں کو ایک گرین پلیٹ جاری کی جائے گی، جس پر ایف بی آر کا مخصوص کیو آر کوڈ (QR Code)، دکاندار کا نام، این ٹی این (NTN) اور دکان کا پتہ درج ہوگا۔ اس پلیٹ کو دکان کے باہر نمایاں مقام پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا، جبکہ کیو آر کوڈ میں دکان کے مقام اور ملکیت سے متعلق معلومات بھی محفوظ ہوں گی۔

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ گرین پلیٹ آویزاں ہونے کی صورت میں کسی حقیقی دکاندار کے ٹیکس معاملات کے حوالے سے ان لینڈ ریونیو کا کوئی افسر یا اہلکار دکان کے اندر داخل نہیں ہوگا۔

مزیدپڑھیں:لیونل میسی نے بچپن میں لامین یامال کو نہلایا،16 سال پرانی تصویر نے دنیا کو حیران کر دیا

خصوصی طریقہ کار ان دکانداروں پر لاگو ہوگا جن کی آمدنی بنیادی طور پر ریٹیل کاروبار سے حاصل ہوتی ہو اور جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے تک ہو۔ تاہم یہ سہولت ان افراد کو حاصل نہیں ہوگی جن کا گزشتہ تین برسوں میں کسی بھی سال کاروباری حجم 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہو، جو ایک سے زائد دکانوں کے مالک ہوں، ٹیئر ون ریٹیلرز (Tier-1 Retailers)، زیورات فروخت کرنے والے یا ڈاکٹرز، انجینئرز اور وکلا سمیت پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے افراد ہوں۔

ایف بی آر نے کہا ہے کہ ٹیکس سال 2025 کا ریٹرن جمع کرانے والے ریٹیلرز بھی اس خصوصی طریقہ کار سے فائدہ اٹھا سکیں گے، بشرطیکہ ان کا قابلِ ادائیگی ٹیکس گزشتہ سال سے کم نہ ہو اور انہوں نے اس سہولت کے حصول کے لیے اپنے کاروبار کو تقسیم یا اس کا نام تبدیل نہ کیا ہو۔

رجسٹریشن کے لیے دکاندار آئیرس ویب پورٹل، دکانداروں کی موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس دفتر سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق یہ اسکیم اختیاری ہوگی، یعنی دکاندار چاہیں تو اس کے تحت ٹیکس ادا کریں یا معمول کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں۔

ایف بی آر نے مزید واضح کیا ہے کہ اس خصوصی طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کے لیے دکانداروں کو انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ کم از کم 25 ہزار روپے نقد ٹیکس جمع کرانا ہوگا، خواہ ان کے ٹیکس کی کٹوتی پہلے ہی ودہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں ہو چکی ہو۔ ادارے کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس منہا کرنے کے بعد قابلِ ادائیگی ٹیکس یا 25 ہزار روپے، دونوں میں سے جو رقم زیادہ ہوگی، وہی دکاندار کا حتمی قابلِ ادائیگی ٹیکس تصور کی جائے گی۔