قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (Ministry of Information Technology) کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل (Apple) سے رابطہ کرے اور اسے پاکستان میں باضابطہ طور پر اپنے آپریشنز شروع کرنے پر آمادہ کرے۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید امین الحق (Syed Amin Ul Haque) کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی موجودگی اور اسمارٹ فون مارکیٹ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سید امین الحق نے سوال اٹھایا کہ ایپل نے بھارت اور بنگلہ دیش سمیت خطے کے دیگر ممالک میں اپنی موجودگی قائم کر لی ہے، لیکن پاکستان میں اب تک اس کا باضابطہ آپریشن کیوں شروع نہیں ہو سکا۔
مزیدپڑھیں:‘ہم جیتنے کے لائق ہی نہیں تھے’: ایمباپے نے اسپین سے ہار کا ملبہ ٹیم پر ڈال دیا
انہوں نے کہا کہ جب ایپل بھارت اور بنگلہ دیش میں کام کر سکتی ہے تو پھر پاکستان میں اس کی موجودگی میں کیا رکاوٹ ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور باضابطہ موجودگی صارفین اور آئی ٹی شعبے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ (Shaza Fatima Khawaja) نے کمیٹی کو بتایا کہ ایپل کے آئی فونز (iPhone) اور گوگل کے پکسل (Google Pixel) سمیت دیگر پریمیئم اسمارٹ فونز اس وقت پاکستان درآمد کیے جا رہے ہیں اور ان پر مقررہ درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکس لاگو ہوتے ہیں۔
کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ نوکیا (Nokia) اور سام سنگ (Samsung) جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں موجود ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ایپل کو بھی پاکستان میں باضابطہ طور پر اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے اقدامات کرے۔









