وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف(Maryam Nawaz Sharif) نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت تعلیم کے شعبے میں تاریخی اصلاحات متعارف کرا رہی ہے جن کے تحت ہر تحصیل میں نواز شریف اسکول آف ایمیننس قائم کیے جائیں گےو طلبہ کو ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس ایک لاکھ لیپ ٹاپ اور مزید 50 ہزار ہونہار اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی جبکہ صوبے بھر میں 300 جدید سرکاری اسکول بھی قائم کیے جائیں گے۔
عارف والا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کو جدید تعلیمی اداروں میں تبدیل کر رہی ہے تاکہ غریب اور امیر کے بچوں کو یکساں تعلیمی سہولتیں اور معیاری ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم وہ طاقت ہے جو معاشرتی تفریق کو ختم کر کے ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار کرتی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے اور حکومت خصوصاً طالبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی بیٹیاں محفوظ ہیں اور حکومت ان کی تعلیم، سفر اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بارشوں کے موسم میں والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو غیر محفوظ مقامات پر جانے سے روکیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں ایک زیر تعمیر مکان کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی جانوں کا تحفظ حکومت اور والدین دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھلے مین ہولز شہریوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں اس لیے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو انہیں فوری طور پر بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاہم بعض شرپسند عناصر رات کے وقت مین ہولز کے ڈھکن چرا لیتے ہیں جس سے حادثات جنم لیتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے 13 کروڑ عوام اور لاکھوں طلبہ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اسی لیے تعلیم کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن طلبہ کو مناسب سفری سہولت میسر نہیں، ان کے لیے گرین الیکٹرک بس سروس کا دائرہ مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ وہ محفوظ اور آرام دہ انداز میں تعلیمی اداروں تک پہنچ سکیں۔
مزیدپڑھیں:10،10روپے جمع کرنے والے بھکاری نے نئی ٹویوٹاکرولاخریدلی،عطیہ دینے والے تمام افراد کاشکریہ اداکردیا
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اسکول آف ایمیننس میں داخلوں کے لیے غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی جہاں ایک ہزار نشستوں کے لیے تقریباً پانچ ہزار طلبہ نے امتحان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں میں ایک مزدور کا بچہ بھی تعلیم حاصل کرے گا اور ایک سرکاری افسر کا بچہ بھی، کیونکہ حکومت میرٹ اور صلاحیت پر یقین رکھتی ہے، نہ کہ مالی حیثیت پر۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ حکومت طلبہ میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرے گی جبکہ مزید 50 ہزار ہونہار اسکالرشپس بھی دی جائیں گی تاکہ ذہین اور مستحق طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے نئے کلاس رومز معیاری فرنیچر، بیت الخلا، صاف پانی، پنکھوں اور دیگر ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔
مریم نواز نے کہا کہ حکومت جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی، کمپیوٹر اور آئی ٹی لیبارٹریاں قائم کر رہی ہے، جبکہ پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی لیبارٹریاں بھی بنائی جا رہی ہیں تاکہ پنجاب کے طلبہ عالمی معیار کی جدید تعلیم حاصل کر سکیں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور روبوٹکس جیسے جدید علوم سیکھیں کیونکہ مستقبل میں یہی مہارتیں کامیابی اور بہتر روزگار کی ضمانت بنیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں تعلیمی اصلاحات کا یہ صرف آغاز ہے اور حکومت آئندہ برسوں میں صوبے بھر کے سرکاری تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے گی۔









