بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا ایران کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر سے تجاوز کر گئیں

مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث پیر کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل(Crude Oil) کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 3 فیصد سے زائد بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کے فیوچر 2.77 ڈالر یا 3.14 فیصد اضافے کے بعد 90.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 11 جون کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 15.9 فیصد اضافہ ہوا، جو اپریل کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ ڈبلیو ٹی آئی کے فیوچر 2.35 ڈالر یا 2.85 فیصد بڑھ کر 84.84 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جو 12 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کی قیمت میں 15.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مارچ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے خدشات ہیں۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل تجارت اسی اہم بحری گزرگاہ سے ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

ہفتے کے اختتام پر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی جب امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی حملوں کا اعلان کیا، جبکہ کویت اور بحرین نے بھی ایرانی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔

مزیدپڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی اور شرح سود کے خدشات، سونا سستا ہو گیا

امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کر رہا ہے، جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایسے جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو اس کے مقرر کردہ بحری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (UKMTO) کے مطابق پیر کی صبح عمان کے شمال مغرب میں واقع کمزار کے قریب ایک بحری جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا، جس نے خطے میں بحری سلامتی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

بارکلیز (Barclays) کے تجزیہ کار امرپریت سنگھ (Amarpreet Singh) نے کہا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ دونوں جانب سے جاری بحری اقدامات کے باعث خطے سے تیل کی برآمدات کس حد تک متاثر ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق مارکیٹ موجودہ بحران کے ممکنہ اثرات کو ابھی مکمل طور پر شامل نہیں کر رہی، جبکہ عالمی تیل ذخائر گزشتہ پانچ برسوں کی کم ترین سطح کے قریب ہیں۔

ایل ایس ای جی (LSEG) کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو صرف چار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد آٹھ تھی، جو خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور بحری نقل و حرکت میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔