بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

برطانیہ میں گھریلو بجلی کے بلوں پر VAT ختم، حکومت کا عوام کے لیے بڑا ریلیف

برطانیہ کی حکومت نے عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے ریلیف دینے کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے گھریلو بجلی کے بلوں پر عائد 5 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس  (VAT)  ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت یکم اکتوبر 2026 سے گھریلو بجلی کے بلوں پر وی اے ٹی کی شرح صفر فیصد ہو جائے گی۔

برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس فیصلے پر عمل درآمد توانائی کے ریگولیٹر آف جیم (Ofgem) کی نئی پرائس کیپ نافذ ہونے سے قبل کیا جائے گا تاکہ صارفین کو فوری مالی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایک اوسط گھریلو صارف کے سالانہ بجلی کے بل میں تقریباً 45 پاؤنڈ تک کمی متوقع ہے، جو گزشتہ بجٹ میں دیے گئے 150 پاؤنڈ کے اضافی ریلیف کے علاوہ ہوگی۔

وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران عوام مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق نئی حکومت کی اولین ترجیح عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس ختم کرنے سے نہ صرف گھریلو اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ معیشت پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

برطانیہ کے وزیر خزانہ جان ہیلی نے بتایا کہ اس منصوبے کے اخراجات ڈیجیٹل آئی ڈی پروگرام منسوخ کرکے پورے کیے جائیں گے، جس پر آئندہ تین برسوں میں تقریباً **1.8 ارب پاؤنڈ** خرچ ہونا تھا۔

حکومت کے مطابق اس فیصلے پر رواں مالی سال کے دوران تقریباً 85 کروڑ پاؤنڈ لاگت آئے گی، جبکہ مستقبل کے مالی اقدامات کا اعلان آئندہ بجٹ میں کیا جائے گا۔

حکام نے کہا کہ توانائی فراہم کرنے والی تمام کمپنیاں وی اے ٹی میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل کریں گی۔ اس ریلیف سے گھریلو صارفین کے علاوہ بعض چھوٹے کاروبار، خیراتی ادارے اور رہائشی نگہداشت کے مراکز بھی مستفید ہوں گے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ روس۔یوکرین جنگ اور ایران میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو اخراجات بڑھا دیے ہیں، اسی لیے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ شمالی آئرلینڈ کو بھی مساوی مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہاں کے شہری بھی اس سہولت سے یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔