اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق چند اہم حقائق عوام کے سامنے لانا ضروری ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سکیورٹی اداروں نے کچھ عرصہ قبل ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے وابستہ ایک شخص کو گرفتار کیا، جس سے ہونے والی تحقیقات کے دوران پاکستان مخالف سوشل میڈیا مہم کے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ ملا۔
عطاء اللہ تارڑ کے (Atta Tarrar)مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص کو پاکستان مخالف مواد کی تشہیر اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے لیے بھارت سے مالی معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے بوٹ فارمز استعمال کرتے ہوئے پاکستان، قومی سلامتی، ریاستی اداروں، افواجِ پاکستان، آرمی چیف اور حکومتی شخصیات کے خلاف منظم انداز میں گمراہ کن اور نفرت انگیز مواد پھیلایا جاتا رہا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ دورانِ تفتیش گرفتار شخص نے انکشاف کیا کہ اسے فراہم کیے جانے والے بیشتر مواد کا تعلق آزاد کشمیر میں سرگرم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تھا۔ ان کے بقول حکومت پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کا مقصد کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا اور پاکستان و کشمیر کے مضبوط تعلقات کو کمزور کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی واقعی کشمیری عوام کے مفادات کی نمائندہ ہے تو اسے جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہوئے انتخابات میں آنا چاہیے۔ عطاء اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ اس گروہ نے پرتشدد احتجاج کے ذریعے امن و امان کی صورتحال خراب کی، جس کے نتیجے میں کشمیری پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ایسے عناصر کے بھارت سے روابط کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلحہ اور تشدد کے ذریعے ایسی تحریک چلانے کی کوشش کی گئی جس کا نہ کشمیر کاز سے تعلق تھا اور نہ ہی کشمیری عوام کے مفاد سے۔
مزید پڑھیں:واٹس ایپ کا 4 نئے فیچرز متعارف کرانے کا اعلان
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دشمن کی مالی معاونت سے پاکستان، افواجِ پاکستان اور ملکی قیادت کے خلاف منظم ڈس انفارمیشن مہم چلائی گئی، تاہم کشمیری عوام نے ان سازشی عناصر کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط ہے اور اسے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست پاکستان ایسے تمام عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے گی جو بیرونی فنڈنگ کے ذریعے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔









