موجودہ عہد میں ایک انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کیا ہوسکتی ہے؟ اس کا حتمی جواب تو کوئی نہیں دے سکتا مگر سائنسدانوں کے مطابق ایک فرد 194سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق کسی انسان کے لیے ہمیشہ زندہ رہنے کے مقصد کا حصول ممکن ہی نہیں اور وہ ایک خاص عمر تک ہی زندہ رہ سکتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ 194 سال آخری حد ہے یعنی اتنے عرصے تک ہی کوئی جسم خود کو مستحکم رکھ سکتا ہے۔جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں اگر کسی طرح ہم بڑھاپے کے راز کو جان بھی لیں تو بھی ہم ہمیشہ زندہ رہنا ممکن نہیں بناسکتے کیونکہ وقت کے ساتھ جینز میں آنے والی تنزلی اور تبدیلیوں کو روکنا ممکن نہیں۔
اس تحقیق میں زندگی بھر کے دوران جینز اور ڈی این اے میں آنے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیشتر تبدیلیاں بے ضرر ہوتی ہیں مگر دیگر تبدیلیوں سے خلیات کو نقصان پہنچتا ہے اور ان کے افعال متاثر ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والی بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق ان تبدیلیوں سے مکمل طور پر بچنا ممکن ہی نہیں اور ان کا سامنا روزمرہ میں خلیات کی تقسیم سے لے کر ماحولیاتی عناصر جیسے وائرسز، مخصوص کیمیکلز یا سورج کی روشنی میں موجود الٹرا وائلٹ شعاعوں کے نتیجے میں ہوسکتا ہے۔
پھر انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ڈی این اے میں ان تبدیلیوں سے کوئی فرد زیادہ سے زیادہ کتنے سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔اس کے لیے انہوں نے ایک ماڈل تیار کیا اور بڑھاپے کے تمام ریورس ایبل اعشاریوں کو اس میں شامل کیا اور پھر جینیاتی تبدیلیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اندازہ لگایا کہ ایک انسان زیادہ سے زیادہ کتنے سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
انہوں نے دریافت کیا کہ اگر ہم کسی طرح بہت زیادہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑھاپے کے اثرات کو سست بھی کر دیں تو ایک انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر 146 سے 194 تک ہوسکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
محققین کے مطابق ہماری جِلد اور جگر ایسے اعضا ہیں جو پرانے خلیات کو مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں اور جینیاتی تبدیلیوں کو ختم کر دیتے ہیں، مگر دل اور دماغ کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، جن کے بیشتر خلیات اور ٹشوز اکثر تبدیل نہیں ہوتے اور نقصان دہ جینیاتی تبدیلیوں سے ہونے والا نقصان مستقل ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں:ویسٹ انڈیز، انگلینڈ ٹیسٹ سیریز؛ پاکستانی اسکواڈ میں 2 تبدیلیوں کا اعلان
ہم یہ نہیں کہتے کہ جینیاتی تبدیلیاں نقصان دہ ہوتی ہیں مگر ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ زندگی کی مدت گھٹ جاتی ہے۔ دیگر حیاتیاتی مراحل بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہوں گے مگر اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ موجودہ عہد میں سب سے زیادہ عمر پانے والی شخصیت ایک خاتون جینی کالمیٹ تھیں جو 1997 میں 122 سال کی عمر میں چل بسی تھیں۔









