میرپور / مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں صبح 8 بجے شروع ہونے والا پولنگ کا عمل شام 6 بجے تک بلا تعطل جاری رہا، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ڈویژن بھر کے 2,454 پولنگ اسٹیشنز پر مجموعی طور پر 14 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔ ان انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت کل 296 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔
انتخابی عمل کے دوران الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیتے ہوئے کوٹلی میں نجی رہائش گاہ جانے والے 2 پریزائیڈنگ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی، جس کے بعد پولیس نے دونوں کو گرفتار کر لیا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: میرپور ڈویژن کے 3 اضلاع میں پولنگ شروع
دوسری جانب، ضلع کوٹلی کے حلقہ ایل اے-9 نکیال کے گاؤں دھیری میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں فائرنگ سے پی پی پی کا ایک کارکن مختار یونس جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہو گئے۔ مظفرآباد پہنچنے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں، سینیٹر شیری رحمان نے ایل اے-8 کوٹلی کے متعدد پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ری پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ کشمیری عوام نے احتجاج کی سیاست کو رد کرتے ہوئے ووٹ کو ترجیح دی ہے اور وہ مریم نواز کے عوامی منصوبوں کو سراہ رہے ہیں۔









