بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صحافت کا جنگل، کرداروں کی دنیا اور شیر کی ایک چنگھاڑ

صحافت کو کبھی ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا تھا۔ اس شعبے سے وابستہ افراد کو معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان سمجھا جاتا تھا۔ ان کا کام حقائق کو تلاش کرنا، عوام تک سچ پہنچانا اور اقتدار کو آئینہ دکھانا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ صحافت کی دنیا بھی عجیب و غریب کرداروں سے بھر گئی ہے۔ آج خبر سے زیادہ خبر سنانے والے کی شخصیت زیر بحث ہوتی ہے، تجزیے سے زیادہ تجزیہ کار کی شہرت اہم سمجھی جاتی ہے اور حقائق سے زیادہ دعووں کی گونج سنائی دیتی ہے۔

صحافیوں پر خبریں بھی ناگہانی طور پر اترتی ہیں اور ان کے ذرائع بھی ایسے ہوتے ہیں جنہیں وہ رازِ سربستہ قرار دیتے ہیں۔ ہر دوسرے شخص کے پاس “باوثوق ذرائع” موجود ہیں، ہر تیسرے کے پاس “اندر کی خبر” ہے اور ہر چوتھا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اصل حقیقت صرف اسی کے پاس ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحافت ایک ایسی منڈی بن چکی ہے جہاں ہر شخص نے اپنی اپنی دکان سجا رکھی ہے اور ہر دکان دار اپنی جنس کو سب سے قیمتی ثابت کرنے میں مصروف ہے۔

کوئی لومڑی کی چالاکی سے حالات کا رخ بدلنے کی کوشش کرتا ہے، کوئی بگلے کی طرح خاموشی اوڑھ کر موقع کا انتظار کرتا ہے، کوئی اپنے آپ کو ارسطو سمجھتا ہے تو کوئی سقراط کا روپ دھار کر ایسی فلسفیانہ گفتگو کرتا ہے کہ سننے والا حیرت میں مبتلا ہو جائے۔ ہر شخص کے دعوے اتنے بلند ہیں کہ گویا اس کے علاوہ باقی سب کم علم، ناتجربہ کار اور فہم و فراست سے عاری ہیں۔ موصوف نے جو کہہ دیا، وہ گویا حرفِ آخر ہے، جیسے آسمان سے کوئی صحیفہ نازل ہو گیا ہو جس پر سوال اٹھانے کی کسی کو اجازت نہ ہو۔

ہر شخص اپنے کردار کو درست ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسکول میں پڑھائی جانے والی مشہور کتاب Animal Farm حقیقت کا روپ دھار چکی ہو۔ اس جنگل میں بھی ہر کردار کا اپنا مفاد، اپنی حکمت عملی اور اپنی حیثیت ہے۔ کوئی طاقتوروں کا قریبی بن کر اندرونی ملاقاتوں کے قصے سناتا ہے، کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی ہر سرگوشی سن رکھی ہے، جبکہ کوئی روزانہ ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر ایسی کہانیاں سناتا ہے جن میں زمین و آسمان کے فاصلے بھی سمٹتے دکھائی دیتے ہیں۔

ٹیلی ویژن اسکرین پر بیٹھے بعض اینکر حضرات کا انداز بھی قابلِ دید ہوتا ہے۔ گفتگو سے زیادہ خود اپنی اہمیت کا چرچا کرتے ہیں۔ ان کے لہجے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحافت کا آغاز بھی ان سے ہوا ہو اور اختتام بھی انہی پر ہوگا۔ وہ خود کو سب سے بڑا، سب سے معتبر اور سب سے باخبر ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ان کے نزدیک باقی سب محض تماشائی ہیں۔

پھر کچھ سفید بالوں والے تجزیہ نگار ہوتے ہیں جن کی گفتگو سنتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ قیامت دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ ہر دن ایک نئی پیش گوئی، ہر رات ایک نیا بحران اور ہر صبح ایک نئی تباہی کا اعلان۔ اگر ان کی باتوں پر یقین کر لیا جائے تو دنیا شاید کئی بار ختم ہو چکی ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت گزرتا رہتا ہے، نظام چلتا رہتا ہے اور وہی تجزیہ نگار اگلے دن ایک نئی کہانی لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب قاری اور ناظرین بھی عجیب کشمکش کا شکار ہیں۔ وہ کبھی ایک چینل کی طرف دیکھتے ہیں، کبھی دوسرے کی طرف۔ ایک تجزیہ کار کچھ کہتا ہے تو دوسرا اس کی مکمل نفی کر دیتا ہے۔ ایک خبر بریکنگ نیوز بنتی ہے تو دوسری اسے افواہ قرار دے دیتی ہے۔ عوام اس تماشے کو دیکھتے رہتے ہیں اور حقیقت کی تلاش میں ایک اسکرین سے دوسری اسکرین تک بھٹکتے رہتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ صحافی تجزیہ کرتے ہیں یا مختلف آراء رکھتے ہیں، بلکہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ذاتی پسند و ناپسند، شہرت کی خواہش، ریٹنگ کی دوڑ اور مفادات، خبر پر غالب آ جائیں۔ جب صحافت خدمت کے بجائے کاروبار بن جائے، جب سچ سے زیادہ سنسنی بکے، جب دلیل سے زیادہ آواز کی بلندی کو اہمیت دی جائے، تو پھر صحافت اپنے اصل مقصد سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔

ایسے ماحول میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو خود کو “بابائے صحافت” کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ وہ اپنے نظریات، زبان، لہجے اور مؤقف اس مہارت سے بدلتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جائے۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنا، ہر طاقتور کے ساتھ کھڑا ہونا اور ہر نئے موسم کے مطابق اپنا رنگ بدل لینا ان کی عادت بن جاتی ہے۔ وہ ہر برتن میں ڈھل جانے کا ہنر رکھتے ہیں، مگر اصولوں پر قائم رہنے کا حوصلہ کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

لیکن اس پورے منظرنامے میں ایک کردار ایسا بھی ہے جو خاموش رہ کر سب کچھ دیکھتا رہتا ہے۔ وہ جلد بازی میں فیصلے نہیں کرتا، ہر شور کا جواب شور سے نہیں دیتا اور ہر دعوے پر ردعمل بھی ظاہر نہیں کرتا۔ مگر جب وہ حرکت میں آتا ہے تو اس کی ایک چنگھاڑ پورے جنگل کی فضا بدل دیتی ہے۔ اس ایک لمحے میں وہ تمام کردار، جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے، اپنی اپنی جگہیں بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کے دعوے، تجزیے اور پیش گوئیاں یکدم نئی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

یہی جنگل کا قانون ہے۔ شیر اپنی بادشاہت کسی اشتہار، نعرے یا دعوے سے قائم نہیں رکھتا بلکہ اپنے کردار، اپنی قوت اور اپنی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ درباری بدلتے رہتے ہیں، چاپلوس آتے جاتے رہتے ہیں، مفاد پرست ہر دور میں اپنا رنگ بدلتے رہتے ہیں، مگر بادشاہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔

صحافت بھی اسی اصول کی محتاج ہے۔ اصل صحافی وہ نہیں جو ہر روز سب سے بڑا دعویٰ کرے، نہ وہ جو سب سے زیادہ شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو وقت کی آزمائش پر پورا اترے، سچ کو سچ کہنے کی ہمت رکھے، خبر کو امانت سمجھے اور عوام کے اعتماد کو اپنی سب سے بڑی دولت جانے۔ شہرت وقتی ہو سکتی ہے، ریٹنگ عارضی ہو سکتی ہے، مگر دیانت داری اور ساکھ وہ سرمایہ ہے جو برسوں میں بنتا ہے اور لمحوں میں ختم ہو جاتا ہے۔

آج صحافت کو سب سے زیادہ ضرورت شور مچانے والوں کی نہیں بلکہ خاموشی سے تحقیق کرنے والوں کی ہے۔ ایسے قلم کاروں کی ضرورت ہے جو خبر کو خبر رہنے دیں، اسے ذاتی مفاد یا انا کی جنگ نہ بنائیں۔ معاشرے کو ایسے صحافی درکار ہیں جو اختلاف کو دشمنی نہ سمجھیں، سوال کو جرم نہ قرار دیں اور سچائی کو کسی مصلحت پر قربان نہ کریں۔

کیونکہ آخرکار وقت سب سے بڑا منصف ہے۔ وقت ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون واقعی صحافی تھا اور کون صرف کردار ادا کر رہا تھا۔ وقت ہی بتاتا ہے کہ کس نے قلم کی حرمت کو قائم رکھا اور کس نے اسے ذاتی مفاد کی خاطر استعمال کیا۔ جنگل میں شیر کی حیثیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے، مگر درباریوں کے چہرے، لباس اور دعوے ہر موسم کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ یہی صحافت کی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔