وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ(Rana Sanaullah) نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے دو انتخابی مراحل میں مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، باغ اور پونچھ ڈویژن کے تیسرے مرحلے میں بھی پارٹی کامیاب ہوگی اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔
باغ میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کشمیری عوام صرف پاکستان سے محبت نہیں کرتے بلکہ پورا پاکستان انہیں اپنا مالک سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘ کے نعرے کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ پاکستان صرف کشمیریوں کا نہیں، کشمیری بھی پاکستان کے مالک ہیں۔
بات یہ نہیں کہ کون الیکشن جیتا کون ہارا۔ اہم بات یہ ہے کہ جس پر پورا پاکستان فخر کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن وہ واحد جماعت ہے جس نے مشکل علاقے میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا، ہزاروں کشمیریوں نے لبیک کہا۔ اصل بات یہ ہے pic.twitter.com/RA6pogNcfc
— Rashid Nasrullah (@RashidNasrulah) August 8, 2026
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، فیصل آباد، لاہور اور ملتان سمیت پاکستان کے ہر حصے میں کشمیریوں کو دیگر پاکستانیوں کے برابر حقوق، عزت اور مقام حاصل ہے۔ کشمیری مختلف شعبوں میں کاروبار اور ملازمتیں کر رہے ہیں جبکہ پاک فوج میں بھی کشمیریوں کی شمولیت آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان اور کشمیر کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ معرکہ حق میں بھی کشمیری عوام اور پاک فوج پاکستان کے دفاع میں ایک ساتھ کھڑے رہے۔ تحریک آزادی جموں و کشمیر ہمارے لیے تحریک تکمیل پاکستان ہے، پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیر پاکستان ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان اس مضبوط رشتے کو دنیا کی کوئی طاقت کمزور نہیں کرسکتی۔ باغ اور پونچھ کے عوام کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی حمایت اس وابستگی کا ایک اور اظہار ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام حکومتِ پاکستان کا قومی فلاحی پروگرام ہے، کسی سیاسی جماعت یا فرد کی جاگیر نہیں۔ عوام کے ٹیکس سے چلنے والے اس پروگرام کا حق ہر مستحق شہری کو ملنا چاہیے، اور کوئی بھی مستحق خاتون اس حق سے محروم نہیں رہے گی۔
انجینئر امیر مقام pic.twitter.com/RQfuZpjJ16— Pervaiz Sandhila (@chsandhilaa) August 8, 2026
رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو مراحل کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی اسمبلی میں 24 منتخب ارکان کی پوزیشن ہے، جبکہ مخصوص نشستیں ملنے کے بعد پارٹی کی مجموعی تعداد 30 تک پہنچ جائے گی۔ دو تہائی اکثریت کے لیے مزید چھ ارکان درکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 10 اگست کو باغ اور پونچھ ڈویژن سے مزید 4 مسلم لیگ (ن) کے ارکان منتخب ہوئے تو پارٹی دو تہائی اکثریت کے مزید قریب پہنچ جائے گی، جبکہ پونچھ ڈویژن کی باقی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی امید ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا آج سے غیرمعینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان
دوسری جانب وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے بھی باغ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حویلی کے بعد باغ میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے ثابت کردیا ہے کہ کشمیری عوام مسلم لیگ (ن) اور قائد نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جلسے میں موجود نہیں، تاہم ان کے کارکنوں اور سپاہیوں نے ان کی غیر موجودگی میں بھی عوامی حمایت ثابت کردی ہے۔
Millions of people in Azad Kashmir gathered at a massive PML-N political rally 🇵🇰
People echoed slogans of IOJK, saying: “We are Pakistanis, and Pakistan is ours.”
A bad day for India, its proxies JAAC, and the entire anti-Pakistan propaganda network. pic.twitter.com/GZ6wpOeKTd
— Zard si Gana (@ZardSi) August 7, 2026
امیر مقام نے پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں صدر اور وزیراعظم سمیت اہم حکومتی عہدے پیپلز پارٹی کے پاس رہے ہیں، اس لیے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے بقول کشمیری عوام نے پیپلز پارٹی کے انتخابی بیانیے کو مسترد کرکے مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی اور کشمیری عوام کے ساتھ محبت نے بھی ووٹرز کے فیصلے پر اثر ڈالا۔ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بن چکی ہے اور باغ کے منتخب نمائندے بھی حکومت کا حصہ بنیں گے۔
امیر مقام نے راولاکوٹ میں احتجاج کرنے والوں سے دھرنا ختم کرکے منتخب حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ یا شکایت ہے تو حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اسے حل کیا جاسکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کسی کا حق چھیننے کے حق میں نہیں، تاہم اپنا حق بھی کسی کو چھیننے نہیں دے گی۔ کشمیری عوام باشعور ہیں اور انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور مؤقف کو دیکھ کر مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیا ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت انتخابی عمل کی نگرانی جاری رکھے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں اور پارلیمنٹیرینز پر زور دیا کہ وہ تیسرے مرحلے میں پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔
جلسے کے اختتام پر مسلم لیگ (ن)، نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے گئے۔









