بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اناسی سالہ برگد کی کہانی

حرکت کرتی زمین جھوٹ ہی ہو تیرے ہمسفر اور تیری باتیں ہم کیا جانیں! کونسی فریکوینسی ہوگی اور ان باتوں سے کیا نتائج آئیں گے مظاہر کے پیچھے بھاگتے اپنی شکل عقل سب بھول بیٹھے اپنے باسی کی طبقاتی تخصیص سے تونے علوم کے دروازے بھی نوازوں پر کھولے۔میلانین کی مقدار نے بول چال کے رموز بھی سامراج کے ہاتھ میں بطور ہتھیار دیئے۔کہتے ہیں رہنا ہے رہو ورنہ ہجرت کرو اناسی سال پہلے کی ہجرت کے نصابی ثمرات کتابوں ،مقالاجات تک ہی رہ گئے اور شناخت کے بدلاؤ نے ہم کو گھیر لیا۔برگد کے سایے میں پلنے والی کہانیوں کے ساۓ بھی معدوم ہوگئے مشینی دور کے انسان نے جدت کے نام پر حافظے اور اعصاب پر سوار محللاتی تاریخ ذہانت کی مصنوعی قسم کے سپرد کرکے جبلتی صلاحیتوں سے محرومی کے دائرے کی حرکت تیز کردی۔شعور کو تریاق کا درجہ دیا تو گندھک بھرے ہاتھوں نے زہر قاتل مفت میں دیا- جہاں رائیگانی کا احساس ناف کٹنے کے ساتھ ہی بڑا ہوتا ہو ہاں وہاں شعراء کے مجنوں پن کے پیچھے لگ کر کوئی کتنا مزاحمت کو زندگی کا استعارہ تصور کرنے کی غلطی کرے۔عوامی تاریخ کے نابغہ باغی بن کر اگلے دور میں سر پھروں کو اپنی ہڈیوں کا ایندھن پیش کرتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی ریاستیں اور یہاں بکتا چورن کھانے کے ساتھ دُھول بنا کر آنکھوں میں جھونکنے کے کام بھی آتا ہے اور دور حاضر میں آئین سٹائن کسی تیسری عالمی جنگ کا منتظر تو نہیں مگر آلات حرب کی بدلتی شکلیں اسکی چوتھی عالمی جنگ کے پیشین گوئی کو حقیقت کا لبادہ پہنانے پر مُصر ہے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ نظام کی زنجیروں میں جکڑوں تک تاریخ کا چلن بدلنے والوں کی روداد نہ پہنچتی اور یوں یہ انبوہ زمینی آقا کے دربار میں سر تسلیم کیے کھڑا رہتا۔ بیڑا غرق ایسی عوامی تاریخ کا جو ہمارے ساتھ ٹیک لگاۓ تو کبھی کندھوں پر سوار ہوکر ہمارے جنیئیاتی سفر کےدوام کے لیے اگلی نسلوں کو شعور کے رحم وکرم پر چھوڑ کر تھپکی دینا نہیں بھولتی۔ شناخت چھپا کر یا بدل کر بڑے ہونے کا ناٹک کرنے والے بونوں کا معاشرہ اپنا سایہ خود سے بڑا برداشت نہیں کر پاتا تو وہاں پورے قد سے کھڑا ہونے والا انکی صفوں کے لیے کسی صورت مناسب نہیں۔ اتنا برا بھی نہیں، یہی الاپ ہے ایک ضرورتمند ،وضعدار، دنیا دار اور سکون کا چورن بیچنے والے صوفی کا۔
آزادی یہی ہے کہ اتنی سہولت تو ہو کہ اس یقین سے دھوکے میں رہتے دھوکہ دیا جاۓ کہ حاصل قسمت سرکاری اعداد و شمار ہر معتوب کے معاملے میں بھی جمع والے خانے میں ہو۔
سب اچھا ہے اناسی سال قبل کیا کچھ چھوڑ آۓ شناخت کے لیۓ کئی ان کہی کہانیاں برگد کی شاخوں سے لٹکی رہ گئیں ایک نسل دوسری نسل کی خوشیاں تلاش کرتے خود مٹی ہو گئی قبروں کےنشان تیز چلتے پہیے نے کچل ڈالے مگر جوں جوں شام ڈھلتی ہے تو کسی برگد کے نیچے اپنی کہانی سناۓ جانے کا ڈر دوبارہ اپنے آباء کے پرسا کو تازہ کرتا ہےکتنے آۓ کتنے گئے عوامی تاریخ خاندانوں میں بٹ کر صحنوں سے ہوتے اب ہم سے سر گوشی کرتی ہے کہ اناسی سال بعد بھی سرکاری ادیب ،صوفی،معلم،منشی ،
افسر،
سائنسدان،انجنئیرز،صحافی،عالم،معالج،پہردار ،منصف ،
وکیل جتنے بھی بڑے کیۓ گئے مگر انکے سایے مقامی محلاتی درودیوار سے باہر نظر نہ آۓ کجا یہ عالمی افق پر نظر آتے انکی ڈیٹ آف مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری لکھنا کبھی نہیں بھُولا گیا۔ آج بھی کوئی برگد اپنی پیرانہ سالی کے باوجود اناسی سال کی عوامی تاریخ سے تاریکی بستیاں روشن ہونے کا منتظرہے جس روز یہاں اناسی سالہ دھرتی کے باسی کی اوسط عمر اناسی سال ہوگئی تو عوامی تاریخ کے محلاتی تاریخ اور سازشوں پر غالب آنے کے امکانات روشن ہوجائیں گے اور ایسے میں برگد کی شاخوں پر منت کے دھاگوں کی لگی گرہیں کُھل کر ہمیں شعوری آزادی دیں گی۔
مسعود تنویر ارشد