پاکستان اور سعودی عرب پاکستانی گھریلو ملازمین (Domestic Workers) کی سعودی عرب میں ملازمت کے لیے بھرتی کو آسان، شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے ایک مخصوص معاہدہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ مجوزہ معاہدے میں اس بار بنیادی توجہ کارکنوں کے تحفظ، فلاح و بہبود اور محفوظ طریقے سے بیرون ملک روزگار کے حصول پر مرکوز رکھی گئی ہے۔
دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات اور اہم ملاقاتوں میں مجوزہ معاہدے کے خدوخال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے پاکستانی گھریلو ملازمین کی سعودی عرب میں بھرتی کے عمل کو زیادہ منظم اور شفاف بنانے کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت پاکستان سے سعودی عرب جانے والے گھریلو ملازمین کی بھرتی اور ملازمت سے متعلق معاملات کے لیے ایک واضح طریقہ کار وضع کیا جائے گا، جس سے کارکنوں، بھرتی کرنے والے اداروں اور سعودی آجرین کے درمیان ذمہ داریوں اور طریقہ کار کو زیادہ واضح کیا جاسکے گا۔
2021 کے معاہدے کا نیا ورژن
مجوزہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2021 میں طے پانے والے جنرل ایگریمنٹ آن دی ریکروٹمنٹ آف ورکرز (General Agreement on the Recruitment of Workers) کا نیا اور مخصوص ورژن ہوگا۔
2021 کا معاہدہ عمومی طور پر پاکستانی کارکنوں کی سعودی عرب میں بھرتی سے متعلق تھا، تاہم نیا فریم ورک خصوصی طور پر گھریلو ملازمین کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
اس میں گھریلو ملازمین کی بھرتی، ملازمت کی شرائط، حقوق اور فلاح و بہبود سمیت ان معاملات کو زیادہ واضح انداز میں شامل کیے جانے کی توقع ہے جو اس شعبے میں کام کرنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہیں۔
وفاقی کابینہ سے منظوری طلب
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ (Ministry of Overseas Pakistanis and Human Resource Development) نے مجوزہ معاہدے پر دستخط کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری طلب کرلی ہے۔
مزیدپڑھیں:امریکا نے دنیا بھر میں ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دیے
وزارت نے یہ اقدام رولز آف بزنس 1973 (Rules of Business, 1973) کی متعلقہ شقوں کے تحت کیا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد دونوں ممالک معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اس پر دستخط کے لیے آئندہ اقدامات کرسکیں گے۔
پاکستانی گھریلو ملازمین کے تحفظ پر توجہ
مجوزہ معاہدے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس بار صرف کارکنوں کی بھرتی کو آسان بنانے کے بجائے ان کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو بھی مرکزی اہمیت دی جارہی ہے۔
اس فریم ورک کے ذریعے پاکستانی گھریلو ملازمین کے لیے سعودی عرب جانے سے قبل بھرتی کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے، متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے اور محفوظ نقل مکانی (Safe Migration) کے اصولوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
اس سے ایسے معاملات کو بھی زیادہ مؤثر انداز میں منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جن کا تعلق کارکنوں کی ملازمت کی شرائط اور سعودی عرب میں ان کے روزگار سے ہے۔
پاکستان کے لیے سعودی عرب ایک اہم روزگار کی منڈی ہے جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ گھریلو ملازمین کے لیے الگ اور مخصوص فریم ورک دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت کے تعاون کو مزید منظم کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی عرب کا متوقع اعلیٰ سطحی دورہ
مجوزہ معاہدے پر دستخط سعودی عرب کے پاکستان کے آئندہ متوقع اعلیٰ سطحی دورے کے دوران کیے جانے کا امکان ہے۔
اگر وفاقی کابینہ سے منظوری مل جاتی ہے اور دونوں ممالک معاہدے کی حتمی شرائط پر متفق ہوجاتے ہیں تو یہ فریم ورک پاکستانی گھریلو ملازمین کی سعودی عرب میں بھرتی کے عمل کو زیادہ منظم بنانے کے ساتھ ساتھ کارکنوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔









