بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب میں 165 افراد ہلاک 1500 لاپتہ

نیپال(Nepal) اور چین کے خطے تبت میں ہمالیائی دریا میں مٹی اور چٹانوں کا بڑا تودہ گرنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 1,500 افراد لاپتا ہیں، جن میں کم از کم 800 غیر ملکی شامل ہیں۔ بدھ کو پیش آنے والی اس قدرتی آفت نے نیپال کے پہاڑی قصبوں اور وادیوں کو شدید متاثر کیا، جبکہ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 165 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ریسکیو اہلکار جمعرات کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش کر رہے ہیں جہاں اچانک آنے والے سیلاب نے گھروں، سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

رائٹرز کے مطابق حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے جبکہ نیپال ٹورازم بورڈ کے ترجمان سنیل شرما کے مطابق لاپتا سیاحوں میں177 بھارتی، 63 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 25 کینیڈین شہری شامل ہیں۔ جنوبی کوریا نے بھی اطلاع دی ہے کہ ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے اس کے آٹھ شہری لاپتا ہیں، جبکہ ملائیشیا اور جاپان کے کچھ شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

چین کی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ تبت کے گیریونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ چین اور نیپال کی جانب سے بتائے گئے لاپتا افراد کے اعداد و شمار میں ایک ہی افراد شامل ہیں یا نہیں۔ چینی حکام نے گیریونگ میں تین ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اعداد و شمار کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔


واقعے کے دوران پانی، کیچڑ اور پتھروں کا ایک بڑا ریلا چین کی جانب سرحدی علاقے سے گزرتا ہوا نیپال کی طرف آیا۔ تصدیق شدہ ویڈیوز میں لوگوں کو اچانک آنے والے تیز ریلے سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ متعدد عمارتیں اور گاڑیاں پانی اور ملبے کی زد میں آ گئیں۔

مزیدپڑھیں:بابر اعظم انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے دستیاب ہوں گے یا نہیں؟ کپتان نے بتا دیا

نیپال کے متاثرہ علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ کئی گھروں پر کیچڑ کی موٹی تہہ جم گئی ہے، گاڑیاں بہہ گئی ہیں اور ایک دھاتی پل بھی پانی میں بہہ گیا۔ دریائے لہینڈے کے قریب ہونے والی تباہی کے نتیجے میں دریا کے کنارے آباد کئی بستیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

پولیس ترجمان ابی نارائن کافلے نے رائٹرز کو بتایا کہ تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور مزید لاشیں ملنے کی توقع ہے۔

راسوا کے ایک صحت کارکن تولا بہادر بی کے نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ دریا کے قریب موجود آبادیاں تقریباً مکمل طور پر بہہ گئی ہیں اور ان کے اپنے پانچ رشتہ دار بھی لاپتا ہیں۔

نیپالی فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زمینی اور فضائی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام باسنیٹ نےبرطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں، خصوصاً رسووا اور نوواکوٹ اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ فوج اب تک سیلاب میں پھنسے 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے تین افراد تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے ہوئے کارکن تھے۔

ابتدائی طور پر بعض نیپالی حکام نے امکان ظاہر کیا تھا کہ علاقے میں آنے والے زلزلے سے گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹا ہوگا، جس کے نتیجے میں سیلاب آیا۔ تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق جس زلزلے کی شدت ابتدا میں 4.4 بتائی گئی تھی، وہ دراصل گلیشیئر کی چٹان اور برف کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی زمینی توانائی تھی، جس کے بعد ملبے کا سیلاب آیا۔

سیٹلائٹ تصاویر کے ابتدائی جائزے سے بھی اشارہ ملا ہے کہ برف اور چٹانوں کے تودے گرنے سے دریائے لہینڈے میں شدید سیلاب آیا۔ یہ مقام نیپال اور چین کے رسوواگڑھی سرحدی راستے سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

امدادی کارروائیوں کے دوران ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں خیمے، خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچایا جا رہا ہے۔ نیپالی فوج کے مطابق ان امدادی سامان میں پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے فراہم کی گئی اشیا بھی شامل ہیں۔

بجلی کے پن بجلی منصوبوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ لاپتا افراد کے رشتہ دار نیپالی فوج کے ایک تربیتی مرکز کے باہر جمع ہیں، جہاں سے ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں کے لیے روانہ کیے جا رہے ہیں۔ بجلی منقطع ہونے کے باعث بعض مقامات پر پولیس اہلکار موبائل فون کی روشنی میں لاپتا افراد کے نام درج کر رہے ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق گیریونگ بندرگاہ کے قریب مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کے رابطے متاثر ہوئے ہیں۔ ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ سرحدی راستے تک پہنچنے کی کوششوں میں تاحال کامیابی نہیں ملی، جبکہ ڈرون سے کیے گئے جائزے میں سرحدی گزرگاہ تک جانے والی تمام سڑکیں مکمل طور پر تباہ دکھائی دیں۔

اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے افراد میں بڑی تعداد ان زائرین اور سیاحوں کی بھی ہے جو تبت میں واقع کیلاش مانسروور کی مذہبی زیارت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ کوہِ کیلاش ہندو مذہب میں بھگوان شیو سے منسوب ایک مقدس مقام سمجھا جاتا ہے جبکہ مانسروور جھیل بھی مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امریکا نے بتایا ہے کہ وہ ایک آفات سے نمٹنے کے ماہر کو بھیج رہا ہے اور 5 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔ کینیڈا نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ادارے بھی متاثرہ نیپالی آبادیوں تک امدادی سامان اور عملہ پہنچا رہے ہیں۔

ریسکیو ٹیموں کی جانب سے تلاش کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مزید لاشیں ملنے کا امکان ہے، اس لیے ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں آنے والے وقت میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔