بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت کا متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ

حکومت نے متنازع پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026 واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومت کے مطابق مجوزہ ترامیم اپنے مطلوبہ پالیسی اور ریگولیٹری مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں، خصوصاً ٹیلی کام سیکٹر(Telecom sector) کو طویل عرصے سے درپیش رائٹ آف وے (Right of Way) کے مسائل کا مؤثر حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔

بل واپس لینے کی باقاعدہ تحریک جمعہ کو سینیٹ میں پیش کی جائے گی، جہاں وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ رول 115 کے تحت ایوان سے بل واپس لینے کی اجازت طلب کریں گی۔ یہ بل رواں سال 15 جون کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔

رائٹ آف وے کا فریم ورک تبدیل کرنے کی تجویز

مجوزہ بل میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 میں رائٹ آف وے سے متعلق موجودہ فریم ورک میں بڑی تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں۔

مسودے میں جائیداد کی نوعیت کے اعتبار سے رائٹ آف وے کے لیے الگ الگ طریقہ کار وضع کرنے کی تجویز تھی، جن میں آزاد نجی ملکیت، کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی اور پبلک پراپرٹی شامل تھیں۔

تاہم آزاد نجی ملکیت کے حوالے سے ایک شق سب سے زیادہ متنازع بن گئی تھی۔ اس کے تحت ٹیلی کام لائسنس یافتہ ادارے کو رائٹ آف وے حاصل کرنے سے پہلے جائیداد کے مالک کی تحریری رضامندی لینا اور شرائط و ضوابط پر مشتمل باقاعدہ معاہدہ کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

اگر جائیداد کے مالک اور ٹیلی کام کمپنی کے درمیان معاہدہ نہ ہوپاتا تو لائسنس یافتہ ادارے کو اس جائیداد پر رائٹ آف وے استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں ہونا تھا۔

مشترکہ نجی علاقوں کے لیے 75 دن کا طریقہ کار

کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی کے لیے بھی مسودے میں مخصوص مدت مقرر کرنے کی تجویز تھی۔ ایسی جائیداد میں نجی ہاؤسنگ منصوبوں کی سڑکیں، گلیاں، یوٹیلیٹی کوریڈورز، پارکس اور دیگر مشترکہ مقامات شامل ہوتے ہیں۔

مجوزہ طریقہ کار کے تحت پراپرٹی مینیجر کو درخواست پر 30 دن کے اندر جواب دینا ہوتا۔ جواب نہ ملنے کی صورت میں معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جاسکتا تھا، جسے فریقین کا مؤقف سننے کے بعد 45 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا۔

مزیدپڑھیں:پیک اوقات کی مہنگی بجلی

اس طرح رائٹ آف وے کے تنازع کو ایک مقررہ ٹائم لائن کے اندر حل کرنے کا طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔

سرکاری زمین پر بھی مقررہ مدت میں فیصلہ

پبلک پراپرٹی کے حوالے سے ٹیلی کام لائسنس یافتگان کو متعلقہ سرکاری ادارے سے رائٹ آف وے کی منظوری حاصل کرنا ہوتی۔

اگر متعلقہ ادارہ 30 دن کے اندر درخواست پر فیصلہ نہ کرتا تو معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جاسکتا تھا، جو فریقین کو سننے کے بعد 45 دن کے اندر فیصلہ کرنے کی پابند ہوتی۔

مجوزہ قانون کا مقصد بنیادی طور پر رائٹ آف وے کے حصول میں غیر ضروری تاخیر کو کم کرنا اور ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے انفرااسٹرکچر نصب کرنے کا عمل تیز کرنا تھا۔

بعض رائٹ آف وے فیس ختم کرنے کی تجویز

مسودے میں کامن ڈیولپمنٹ اور پبلک پراپرٹی پر زیرِ زمین رائٹ آف وے کو فیس یا چارجز سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز بھی شامل تھی۔

عارضی اوور گراؤنڈ تنصیبات کو بھی چارجز سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز تھی، جبکہ پولز، اسمال سیلز اور ٹیلی کام لائنز سمیت بعض مخصوص تنصیبات پر وفاقی حکومت کے قواعد کے تحت فیس سے استثنیٰ دینے کی بات کی گئی تھی۔

رائٹ آف وے میں غیر ضروری مداخلت روکنے کی تجویز

مجوزہ ترامیم میں یہ بھی تجویز کیا گیا تھا کہ ایک مرتبہ قانونی طور پر رائٹ آف وے حاصل ہوجانے کے بعد ٹیلی کام کمپنی کو بلاجواز مداخلت سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

جائیداد کے مالکان، کامن ڈیولپمنٹ پراپرٹی مینیجرز اور سرکاری اداروں کو قانونی طور پر حاصل شدہ رائٹ آف وے کے استعمال میں بلاجواز رکاوٹ ڈالنے یا مداخلت کرنے سے روکا جانا تھا۔

تاہم دوسری جانب ٹیلی کام لائسنس یافتگان پر بھی ذمہ داری عائد کی جانی تھی کہ ان کے کام کے نتیجے میں جائیداد یا سڑک وغیرہ کو پہنچنے والے نقصان کی فوری مرمت کریں اور متاثرہ جگہ کو اصل حالت میں بحال کریں۔

عمارتوں کے استعمال کے لیے رضامندی لازمی

مسودے میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ مستقل عمارتوں کو ٹیلی کام مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے عمارت کے مالک یا مجاز شخص کی پیشگی تحریری رضامندی حاصل کرنا ضروری ہوگی۔

یہ شرط اس صورت میں بھی برقرار رہنی تھی اگر ٹیلی کام کمپنی کو متعلقہ رائٹ آف وے پہلے ہی حاصل ہوچکا ہو۔

رکاوٹ ڈالنے والوں کے لیے جرمانے

مجوزہ قانون میں رائٹ آف وے کے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے جرمانوں کی بھی تجویز دی گئی تھی۔

جو افراد جان بوجھ کر کسی لائسنس یافتہ ٹیلی کام آپریٹر کو قانونی طور پر حاصل شدہ رائٹ آف وے استعمال کرنے سے روکتے یا اس میں مداخلت کرتے، ان کے خلاف جرمانے کی کارروائی کی جاسکتی تھی۔

رائٹ آف وے سے متعلق تنازعات نامزد ڈسٹرکٹ افسر کو بھیجے جانے تھے، جسے 45 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا۔ اس فیصلے کے خلاف فریقین کو 30 دن کے اندر ٹریبونل میں اپیل کا حق دیا جانا تھا۔

حکومت نے بل واپس لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟

ذرائع کے مطابق حکومت نے مجوزہ ترامیم کا مزید جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بل کی موجودہ شکل میں وہ مطلوبہ پالیسی اور ریگولیٹری نتائج حاصل نہیں ہوسکتے جن کے لیے ترامیم تیار کی گئی تھیں۔

بالخصوص رائٹ آف وے کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے بعض مجوزہ شرائط مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتی تھیں۔ اسی جائزے کے بعد حکومت نے بل واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

ٹیلی کام صنعت کے لیے اہم پیش رفت

بل کی واپسی ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے کیونکہ رائٹ آف وے اب بھی پاکستان میں فائبر آپٹک نیٹ ورکس، موبائل انفرااسٹرکچر، اسمال سیلز اور دیگر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی منصوبوں کی تنصیب میں بڑی رکاوٹ ہے۔

ٹیلی کام صنعت کے اسٹیک ہولڈرز طویل عرصے سے ایسے رائٹ آف وے نظام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جو واضح، یکساں اور کاروبار کے لیے سہولت فراہم کرنے والا ہو۔

موجودہ نظام میں مختلف سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ، نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور جائیداد کے مالکان سے اجازت لینے کے باعث ٹیلی کام منصوبوں میں تاخیر ہوتی ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں فیس اور شرائط بھی مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس سے انفرااسٹرکچر کی لاگت بڑھنے کے ساتھ ڈیجیٹل نیٹ ورک کی توسیع بھی سست پڑتی ہے۔

حکومت کی جانب سے موجودہ بل واپس لینے کے فیصلے کے بعد اب توقع کی جارہی ہے کہ رائٹ آف وے کے مسئلے کے حل کے لیے زیادہ جامع اور قابلِ عمل قانونی و ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جائے گا، جو ٹیلی کام کمپنیوں کی ضروریات اور جائیداد کے مالکان کے حقوق کے درمیان بہتر توازن قائم کرسکے۔