شادیوں میں کھانے کا مطلب اب صرف مہمانوں کے لیے ایک بڑا اور شاندار بوفے سجانا نہیں رہا۔ بھارت میں نئے جوڑے اپنی شادی کے مینیو(menue) میں ایسے کھانے بھی شامل کر رہے ہیں جو ان کی محبت، بچپن کی یادوں، پسندیدہ مقامات یا مشترکہ تجربات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی بدلتے رجحان میں روایتی پکوانوں کے ساتھ میگی اور میکڈونلڈز جیسے عام اور پسندیدہ کھانے بھی شادی کی تقریبات کا حصہ بن رہے ہیں۔
برسوں سے شادیوں میں کھانے کی فراوانی کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ چاٹ کے مختلف کاؤنٹرز، لائیو پاستا اسٹیشن، دنیا بھر کے کھانے اور میٹھے کی وسیع اقسام مہمانوں کی توجہ حاصل کرتی رہی ہیں۔ لیکن اب بہت سے جوڑے صرف یہ نہیں دیکھ رہے کہ مینیو کتنا بڑا یا مہنگا ہے، بلکہ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ اس میں ان کی اپنی زندگی اور پسند کی کتنی جھلک نظر آتی ہے۔
اگر کسی جوڑے کی محبت کی کہانی رات گئے ساتھ بیٹھ کر میگی کھانے سے جڑی ہو تو شادی میں میگی کا خصوصی کاؤنٹر ان کے لیے ایک یادگار اور دلچسپ انداز بن جاتا ہے۔
اسی طرح کچھ جوڑے اپنی پسندیدہ کافی شاپ یا ریسٹورنٹ کو شادی میں لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ تقریب میں ان کی روزمرہ زندگی کی بھی ایک جھلک شامل ہو۔
ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھانے پینے کی پسند اب شادی کی ذاتی کہانی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:متحدہ عرب امارات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
اسی طرح ایسے جوڑوں کے لیے جو ایک ساتھ میکڈونلڈز جاتے رہے ہوں، ہائی وے پر ڈرائیو تھرو کرتے ہوں یا محض اس کے کھانے کو پسند کرتے ہوں، شادی میں میکڈونلڈز شامل کرنا ان کی مشترکہ یادوں کو تقریب کا حصہ بنانے کا ایک غیر روایتی طریقہ ہے۔
شادیوں میں ذاتی پسند کو شامل کرنے کا رجحان صرف کھانے تک محدود نہیں بلکہ، لباس، سجاوٹ، مہندی اور کاک ٹیل مینیو تک میں جوڑے اپنی پسند اور اپنی یادوں کو جگہ دے رہے ہیں۔ کھانا بھی اسی رجحان کا حصہ بن چکا ہے، کیونکہ پسندیدہ پکوان نہ صرف ذائقہ فراہم کرتے ہیں بلکہ پرانی یادیں بھی تازہ کر سکتے ہیں۔
کچھ جوڑے اپنی پسندیدہ چیزیں شامل کرنے کے بجائے دونوں خاندانوں کے روایتی کھانوں کو ایک ہی مینیو میں جگہ دے رہے ہیں۔ اس طرح ایک طرف پنجابی خاندان کی ترکیب تو دوسری طرف بنگالی خاندان کا روایتی پکوان شامل کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات دادی یا نانی کی خاص ترکیب کو دوبارہ تیار کرکے شادی میں پیش کیا جاتا ہے۔
ایک شادی کی تقریب میں چکھنا ٹیبل رکھا گیا، جس پر ایسے اسنیکس شامل تھے جو دونوں نے اپنے بچپن میں کھائے تھے۔ دودھ کیک، پیاز کچوری، لڈو اور ریوڑی جیسے کھانوں نے دونوں خاندانوں اور ان کے ماضی کی یادوں کو ایک جگہ جمع کیا۔









