بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طوفانی بارش، نشیبی علاقے زیر آب، ایمرجنسی نافذ، اسکول بند، 2 افراد جاں بحق

اسلام آباد/ راولپنڈی : موسلا دھار بارش سے سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر انتظامیہ نے اطراف کی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ مختلف واقعات میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

راولپنڈی میں انتظامیہ نے رین ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کردیا جبکہ اسلام آباد کے متعدد اسکول بھی بند کرکے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا گیا۔

دونوں شہروں کی متعدد سڑکوں بشمول اسلام آباد ایکسپریس وے، مری روڈ، ترامڑی روڈ، اور ڈبل روڈ پر پانی جمع ہوگیا جبکہ آریہ محلہ، غوری ٹاؤن، اصغر مال سکیم، ڈھوک کالا خان، صادق آباد، وارث خان، اور ای الیون کی گلیاں بھی زیرآب آگئیں جس کے باعث پانی گھروں میں بھی داخل ہو گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ راول ڈیم میں پانی کی سطح 1751.90 فٹ تک بلند ہو گئی جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ڈیم کے اسپل ویز کھول دیئے۔

علاوہ ازیں بارش اور پانی جمع ہونے کے باعث اسلام آباد ایکسپریس وے پر راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی ٹریفک مکمل طور پر رک گئی جبکہ کئی سڑکوں اور گلیوں میں گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔

راولپنڈی ڈپٹی کمشنر کے مطابق نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریا میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ صفدر آباد میں 4 نمبر چونگی کے قریب نالہ لئی کا پانی باہر آگیا، جس سے متعدد گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہو گیا۔ راولپنڈی کی فوڈ سٹریٹ میں بھی پانی جمع ہو گیا ، راولپنڈی کے کئی علاقوں سے تاحال پانی نہیں نکالا جا سکا۔

کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 28.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں 23 فٹ تک پہنچ گئی، جبکہ دونوں مقامات پر آبادی کے انخلا کے لیے مقررہ حد 20 فٹ ہے۔

صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے نالہ لئی کے کنارے آباد علاقوں، بالخصوص غریب آباد اور دیگر حساس علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

دوسری جانب بارش سے نالہ کورنگ میں بھی پانی کا بہاؤ تیز ہوگیا ہے، جبکہ آبپارہ مارکیٹ کے قریب درخت گرنے سے سڑک کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند ہوگیا۔

اسی طرح اسلام آباد کے ای الیون میں بھی نالہ بپھر جانے سے پانی سڑک اور بعض بیسمنٹس میں داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق ان بیسمنٹس کو پہلے ہی سیل کیا جاچکا تھا۔

اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ کورال چوک سے کھنہ پل تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جبکہ کئی مسافر گاڑیوں سے اتر کر پیدل اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ دفاتر جانے والے ملازمین اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں شمس آباد میں سب سے زیادہ 194 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8 میں 150 ملی میٹر بارش ہوئی۔

جڑواں شہروں میں اب تک اوسطاً 126 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گولڑہ میں 157، سیدپور میں 98، چکلالہ میں 71 اور بوکرہ میں 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور ایم ڈی واسا نے نالہ لئی کے اطراف صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اضافی ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے نکاسی آب کا عمل بھی جاری ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹر جی 14 میں گھر کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ جبکہ سیکٹر آئی نائن ون میں بچہ نالے میں ڈوب گیا ، جس کی تلاش کیلئے کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی ٹیموں نے آپریشن شروع کر دیا۔

راولپنڈی کے علاقے آریہ محلہ کے ایک گھر میں بارش کا پانی داخل ہونے سے کرنٹ پھیل گیا جس سے گھر میں موجود 50 سالہ شخص کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔کرنٹ لگنے سے مرنے والے شخص کی شناخت 50 سالہ ابرھیم قیصر کے نام سے ہوئی،متوفی کی نعش ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دی گئی۔

یاد رہے کہ ہر بار موسلا دھار بارش ہونے پر جڑواں شہروں کے نشیبی علاقے زیر آب آ جاتے ہیں جبکہ نالہ لئی اور کورنگ نالہ کے علاوہ دریائے سواں میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو جاتی ہے جس کے باعث متعدد حادثات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

گزشتہ برس جولائی میں ایسی ہی بارش کے بعد ڈی ایچ اے فیز 5 کے رہائشی کرنل ریٹائرڈ اسحاق قاضی اور ان کی بیٹی اپنی گاڑی سمیت سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔ اس حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کئی دنوں تک وائرل رہی تھی جس کے بعد اس طرح کے حادثات کا سبب بننے والے نالوں اور دریاؤں کے بیڈ پر ناجائز قبضوں اور تجاوزات کے خلاف سخت ایکشن کی امید پیدا ہوئی تھی۔

اس سے قبل 2021 میں اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں بارش کے بعد سیلاب آیا تھا جو نہ صرف گھروں میں داخل ہو گیا تھا بلکہ کئی گاڑیاں بھی بہا لے گیا تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ سی ڈی اے نے اس سیکٹر سے گزرنے والے برساتی نالے کی چوڑائی 40 سے 18 فٹ کرنے کی منظوری دی تھی جس کے باعث تیز بارش کے نتیجے میں پانی اس سے باہر نکل کر رہائشی علاقے میں داخل ہو گیا۔

بارشوں کا سلسلہ 5 ستمبر تک جاری رہنے کی پیشگوئی کے پیش نظر این ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت ہوا، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں معین وٹو اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک بھی اجلاس میں شریک تھے۔

مزید پرھیں:زخمی کھلاڑی ٹیم کی خاطر بیٹنگ کرنے میدان میں آگیا، چھکا لگا کر ٹیم کو فتح دلا دی

اجلاس میں ملک بھر میں جاری مون سون صورتحال، جاری سیلابی صورتحال، ممکنہ خطرات اور قومی سطح پر ہنگامی تیاریوں ، متاثرہ علاقوں میں امدادی و ریسکیو اقدامات اور اداروں کے باہمی رابطہ کار کے نظام اور صوبائی و ضلعی سطح پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔