برسبین:پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے عالمی کچرے اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف آسٹریلیا کی کوئینز لینڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک اہم اور بریک تھرو قدرتی حل دریافت کر لیا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق سپر ورمز (Zophobas morio) نامی کیڑے پلاسٹک کو کھا کر اسے ہضم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
دنیا بھر میں استعمال ہونے والا اسٹائروفوم، جس سے ڈسپوزایبل کپ، پلیٹیں اور مختلف سامان کی پیکنگ تیار کی جاتی ہے، عام حالات میں تلف ہونے کے لیے سینکڑوں سال لیتا ہے۔ تاہم تاریک بھنگڑ (Darkling Beetle) کے لاروے، یعنی سپر ورمز، اس ضدی اور خطرناک پلاسٹک کو چبا کر آسانی سے ہضم کر رہے ہیں۔
کوئینز لینڈ یونیورسٹی کے اسکول آف کیمیکل اینڈ مالیکیولر بائیوسائنسز کے ماہرین نے اس حوالے سے تین ہفتوں پر محیط ایک لیبارٹری تجربہ کیا۔ تحقیقی ٹیم نے ان کیڑوں کو تین مختلف گروہوں میں تقسیم کیا، جن میں سے پہلے گروپ کو صرف اسٹائروفوم (پلاسٹک) پر رکھا گیا، دوسرے گروپ کو معمول کی قدرتی غذا یعنی چوکر دی گئی، جبکہ تیسرے گروپ کو مکمل طور پر بھوکا رکھا گیا۔
تجربے کے اختتام پر سائنسدان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صرف پلاسٹک کھانے والے کیڑے نہ صرف مکمل طور پر زندہ رہے بلکہ انہوں نے وزن بھی حاصل کیا۔ اگرچہ ان کی صحت معمول کی غذا کھانے والوں جتنی بہترین نہیں تھی، لیکن وہ بھوکے رہنے والے گروپ سے کہیں بہتر حالت میں تھے۔ اس تجربے سے یہ واضح طور پر ثابت ہوا کہ سپر ورمز پلاسٹک کے سخت مالیکیولز سے بھی جسمانی توانائی حاصل کر سکتے ہیں۔
سائنسدانوں نے جب ان کیڑوں کے معدے اور آنتوں کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ عمل ان کے پیٹ میں موجود مخصوص بیکٹیریا اور اینزائمز (Enzymes) کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ سپر ورمز اپنے طاقتور جبڑوں کی مدد سے اسٹائروفوم کو بالکل باریک ٹکڑوں میں کاٹتے ہیں، جس کے بعد ان کے معدے کے اندرونی اینزائمز پلاسٹک کے سخت پولیمرز کو توڑ کر انتہائی سادہ کیمیائی مرکبات میں تبدیل کر دیتے ہیں، جسے ان کا جسم ہضم کر لیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت کا مقصد دنیا بھر میں اربوں کیڑے پال کر کچرے کے ڈھیروں پر چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ اصل منصوبہ ان کے پیٹ میں پائے جانے والے اس مخصوص اینزائم کی نشاندہی کر کے اسے جینیاتی اور کیمیائی سطح پر لیبارٹری میں بڑے پیمانے پر تیار کرنا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں ری سائیکلنگ پلانٹس کے اندر پلاسٹک کے کچرے کو بغیر کسی ماحولیاتی آلودگی کے منٹوں اور گھنٹوں میں تحلیل کر کے بائیو پلاسٹک یا دیگر کارآمد کیمیکلز میں تبدیل کیا جا سکے گا۔









