بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عارف نقوی اور سیاستدان 1 سے 4

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی استغاثہ نے ابراج کیس میں 2019 کے ان کے فوجداری فرد جرم میں چار پاکستانی سیاست دانوں کی شناخت کیے بغیر بات کی تھی جنہیں عارف نقوی نے مبینہ طور پر رشوت دی یا رشوت دینے کی کوشش کی تھی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے ایک پہلے کےمضمون میں چار میں سے تین سیاست دانوں کا نام پہلے ہی دیا گیا تھا جس سے بہت سے لوگ یہ اندازہ لگا رہے تھے کہ ’سیاستدان-4‘ کون ہے جسے اب فنانشل ٹائمز کی خبر میں نام دے دیا گیا ہے۔

2019 میں امریکی پراسیکیوٹرز نے یہ الزام لگایا تھا کہ 2013 سے 2016 کے درمیان ’’سیاستدان 4‘‘ کو عارف نقوی نے رشوت دی تھی۔

2019 کی 77 صفحات پر مشتمل فرد جرم کی دستاویز میں صفحہ 25 پر الزام لگایا گیا کہ کم از کم 2013 اور 2016 کے درمیان مدعا علیہ عارف نقوی، اس وقت مدعا علیہان رفیق لاکھانی اور وقار صدیقی کی مدد سے، نے ابراج فنڈز کا استعمال ایک اور پاکستانی منتخب عہدیدار (’سیاستدان-4‘) کو رشوت دینے اور سیاست دان-4 کے کھانے اور سفر کے بعض اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کیا۔

صفحہ 23 پر فرد جرم میں بحث کی گئی ہے کہ کس طرح مبینہ طور پر عارف نقوی کی ہدایت پر ابراج انٹرپرائز کے اراکین نے بھی انٹرپرائز کے فائدے کے لیے پاکستانی منتخب عہدیداروں کو رشوت دی۔

فرد جرم کے پیرا 54 میں امریکی پراسیکیوٹر نے الزام لگایا تھا کہ مثال کے طور پر جون 2016 میں مدعا علیہ عارف نقوی نے پاکستان میں ایک خاص عہدیدار (’سیاستدان-1‘) کودو سینئر منتخب عہدیداروں (’سیاستدان -2‘ اور ’سیاستدان -3‘) کے ساتھ روابط کے ساتھ مبینہ طور پر سیاست دان -1 کو ’لین دین کے مشیر‘ کے طور پر شامل کرنے اور خاص طور پر منظوریوں، رضامندیوں اور مختلف معاہدوں پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے، جو ابراج، کے ای ایس پاور لمیٹڈ، یا کے-الیکٹرک لمیٹڈ کے لین دین کے لیے حکومت پاکستان اور اس کے متعلقہ اداروں سے درکار ہوں گے، 20 ملین امریکی ڈالر کی ادائیگی کا اختیار دیا ۔

کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے الیکٹرک لمیٹڈ کیلئے ایک ہولڈنگ کمپنی ہے، جو پاکستان میں برقی توانائی کی یوٹیلٹی ہے، جس میں مختلف ابراج برانڈڈ اداروں نے تقریباً 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ فرد جرم میں مزید کہا گیا کہ اپنی ای میل میں ذاتی طور پر معاہدے اور ادائیگی کی منظوری دیتے ہوئے عارف نقوی نے ابراج کے ایک سینئر ممبر (’ایگزیکٹو‘) کو معاہدے میں ترمیم کرنے کی ہدایت کی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ حقیقت میں یہ معاہدہ سیاست دان-1 کے ساتھ ایک آب گزر گاہ کے علاوہ کچھ نہیں تھا جو ابراج کے کراچی الیکٹرک میں اپنے حصص فروخت کرنے کے منصوبے کے سلسلے میں سیاست دان-2 اور سیاست دان-3 پر اثر انداز ہونے کے لیے ابراج کیش کا استعمال کر سکتا ہے جس پر حکومت پاکستان کے پاس لیوریج تھا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ درحقیقت، معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے، سیاست دان-1 نے ایگزیکٹو-1 کو اطلاع دی کہ سیاست دان -1 کو سیاست دان -2 اور سیاست دان -3 کے ’انعامات‘ کے ساتھ ساتھ ان کی ہدایات بھی حاصل ہوں گی کہ یہ رقم کیسے تقسیم کی جائے۔

پھر فرد جرم کا کہنا ہے کہ مزید مثال کے طور پر کم از کم 2013 اور 2016 کے درمیان مدعا علیہ عارف نقوی کو اس وقت رفیق لاکھانی اور وقار صدیقی نے مدد فراہم کی۔ مدعا علیہان نے ابراج فنڈز کا استعمال پاکستان کے ایک اور انتخابی عہدیدار (’سیاستدان-4‘) کو رشوت دینے اور سیاست دان-4 کے کھانے اور سفر کے بعض اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کیا۔

اگرچہ فرد جرم میں ان چاروں سیاستدانوں میں سے کسی کا نام نہیں لیا گیا ہے لیکن وال اسٹریٹ جرنل نے اکتوبر 2018 میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا کہ دبئی میں مقیم متنازع ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے مبینہ طور پر بزنس مین نوید ملک کو کے الیکٹرک کی فروخت کے لیے شریف برادران کا تعاون حاصل کرنے میں ان کی مدد کے لیے 20 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔

آرٹیکل میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملک کو سابق وزیر اعظم نواز شریف سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا تعاون حاصل کرنے کا کام سونپا گیا تھا تاکہ نقوی کو کے الیکٹرک میں ابراج کے حصص فروخت کرنے میں مدد کی جاسکے۔ تاہم نقوی نے وال اسٹریٹ جرنل (ڈبلیو ایس جے) کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

ڈبلیو ایس جے کی مذکورہ خبر میں تین سیاست دانوں نوید ملک، نواز شریف اور شہباز شریف کا نام لیا گیا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کو فرد جرم کی تازہ ترین دستاویز میں بالترتیب ’سیاستدان-1‘، ’سیاستدان-2‘ اور ’سیاستدان-3‘ کہا گیا ہے جبکہ ’’سیاستدان 4‘‘ کی شناخت پر بڑا سوالیہ نشان چھوڑدیا گیا ہے۔

جن کے لیے فرد جرم کے مطابق ابراج کے فنڈز رشوت دینے اور ان کے کھانے اور سفر کے مخصوص اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیے گئے۔ الزام ہے کہ ’’سیاستدان 4‘‘ عمران خان ہیں جن کے بارے میں فنانشل ٹائمز نے حال ہی میں ایک تفصیلی تحقیقاتی خبر شائع کی ہے۔