بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیپال سیلاب، 10 دن سرنگ میں پھنسے شخص نے موت کو کیسے شکست دی؟

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی سرنگ میں کئی دن تک پھنسے رہنے والے 30 سالہ سنجے شاہ نے اپنی بقا کی حیران کن داستان بیان کردی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے خصوصی گفتگو میں سنجے شاہ نے بتایا کہ جب سیلاب نے ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے ڈھانچے کو تباہ کردیا اور وہ تاریک سرنگ میں پھنس گئے تو انہیں اپنی آنکھوں کو ملبے سے زخمی ہونے کا خوف تھا جس کے باعث انہوں نے کئی دن تک آنکھیں بند رکھیں۔

سنجے شاہ کے مطابق سرنگ میں دیکھنے کیلئے کچھ نہیں تھا اور انہیں خدشہ تھا کہ اگر وہ پھسلے یا کسی چیز سے ٹکرا گئے تو ان کی آنکھیں زخمی ہوسکتی ہیں۔ طویل عرصے تک آنکھیں بند رکھنے کے باعث بعد میں انہیں آنکھیں کھولنے میں بھی دشواری ہونے لگی۔

سنجےشاہ تین سال سے زائد عرصے سے سرکاری ادارے نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے زیر ملکیت اپر ترشولی تھری اے ہائیڈرو پاور اسٹیشن میں مکینیکل فورمین کے طور پر کام کررہے تھے۔

جس کثیر المنزلہ پاور ہاؤس میں وہ پھنسے تھے وہ پہاڑ کے اندر گہرائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔سنجے شاہ نے بتایا کہ جب مایوسی انہیں گھیرنے لگی تو انہوں نے ہندوؤں کے مذہبی منتر کو پڑھنا شروع کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں خیال آیا کہ اگر موت بھی مقدر ہے تو جلد ہمت ہارنے کا کیا فائدہ،سنجے شاہ کے مطابق منتر نے انہیں ایک مختلف کیفیت دی، انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ روحانی تجربے سے گزر رہے ہوں۔ اس دوران انہیں خوف کے بجائے سکون اور اطمینان محسوس ہوتا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ پاور ہاؤس کی چھ منزلہ عمارت کی پانچویں منزل سے ایک جگہ ایسی تھی جہاں سے وہ نیچے دیکھ سکتے تھے اور آوازیں لگا کر یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ آیا کوئی اور شخص زندہ ہے یا نہیں تاہم کسی نے جواب نہیں دیا۔

دو سالہ بیٹی کے والد سنجےشاہ نے کہا کہ شروع میں انہیں یقین تھا کہ ریسکیو ٹیم ضرور آئے گی اور کئی دن گزرنے کے باوجود یہ یقین برقرار رہا۔ وہ خود کو یاد دلاتے رہے کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ ان کا خاندان بھی باہر موجود ہے اور ان کی اہلیہ اور بیٹی ان کیلئے پریشان ہوں گے۔

سنجے شاہ کے مطابق خاندان کے بارے میں سوچنے سے ان کا حوصلہ بڑھتا رہا اور وہ گھبراہٹ میں ہمت ہارنے کے بجائے خدا کا نام لیتے اور دعا کرتے رہے۔

سنجے شاہ نے بتایا کہ انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ 10 دن تک سرنگ میں پھنسے رہے۔ ان کے مطابق انہوں نے وقت کا احساس مکمل طور پر کھو دیا تھا اور انہیں یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی دوسری دنیا میں رہ رہے ہوں۔

انہوں نے اندازہ لگایا تھا کہ شاید صرف دو یا تین دن گزرے ہیں تاہم ریسکیو کے بعد جب انہیں بتایا گیا کہ وہ 10 دن تک پھنسے رہے تو انہیں شدید حیرت ہوئی۔

تاریکی میں حرکت کرتے ہوئے وہ کئی مرتبہ چیزوں سے ٹکرائے، ملبے سے زخمی ہوئے اور جسم پر خراشیں بھی آئیں۔ ٹوٹی ہوئی ٹیوب لائٹس اور دیگر اشیا بھی وہاں بکھری ہوئی تھیں جن میں سے بعض نے ان کے پاؤں کو زخمی کردیا۔

سیلاب کے باعث سرنگ مٹی اور ملبے کی تہوں میں دب گئی تھی اور اس کی شکل مکمل طور پر تبدیل ہوگئی تھی۔ سنجےشاہ کے مطابق سیلاب سے قبل وہ سرنگ کے ہر حصے سے واقف تھے اور آسانی سے اندر تک جاسکتے تھے تاہم سیلاب کے بعد سامان بہہ گیا، ڈبے بکھر گئے، دیواریں گر گئیں اور ملبے نے جگہ جگہ ڈھیر اور گڑھے بنا دیے۔

سنجے شاہ نے بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں سرنگ کے اندر حرکت کرنے کی کوشش کی تاہم جب انہیں محسوس ہوا کہ ایسا کرنے سے وہ کسی مزید خطرناک جگہ پر پھنس سکتے ہیں تو انہوں نے ایک نسبتاً محفوظ مقام پر رکنے کا فیصلہ کیا۔

ان کے مطابق اگر وہ وہاں سے آگے چلے جاتے تو انہیں معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا۔ریسکیو سے قبل آخری چند گھنٹوں میں سنجے شاہ کو باہر سے آوازیں سنائی دینے لگیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یقین تھا کہ ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے گا۔

ان کے مطابق انہیں کھدائی کرنے والی مشینوں کی آوازیں اور سیڑھیوں کے بجنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ ریسکیو سے تقریباً 10 سے 12 گھنٹے قبل باہر موجود لوگوں کی سرگرمیاں واضح طور پر سنائی دینے لگیں جس سے ان کے اندر امید پیدا ہوئی۔

سنجےشاہ کے ساتھ 45 سالہ کبیر مہرجن بھی سرنگ میں پھنسے تھے جنہیں بعد میں زیادہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

سنجے شاہ نے بتایا کہ سیلاب آنے سے کچھ دیر پہلے دونوں نے اوپر کی جانب جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر بڑا سیلاب بھی آیا تو پانی اتنی بلندی تک نہیں پہنچے گا۔

دونوں چھٹی منزل تک پہنچ چکے تھے کہ نیچے سے پانی داخل ہونا شروع ہوگیا۔ پہلے ہوا کا دباؤ محسوس ہوا اور پھر پانی داخل ہوگیا جس کے دوران دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے اور سنجے شاہ کا موبائل فون بھی پانی میں بہہ گیا۔

انہیں معلوم نہیں کہ کبیر مہرجن کہاں گئے۔سنجے شاہ نے کہا کہ وہ زندہ بچ گئے تاہم کچھ ایسے افراد جنہیں انہوں نے سرنگ سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا تھا اور جو باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے، سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ان کے مطابق یہی ان کی زندگی کا سب سے افسوسناک پہلو ہے۔

مزید پڑھیں:بائولر محمد عباس نے وسیم اکرم کا 27 برس پرانا ریکارڈ برابر کر دیا

یاد رہے کہ نیپال میں اگست کے آخر میں ہمالیائی گلیشیئر کے انہدام کے بعد وادیوں میں تباہی پھیل گئی تھی جس کے نتیجے میں نیپال اور چین کے تبت خطے میں کم از کم 1400 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی جبکہ 5600 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔