امریکا نے یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے سعودی عرب(Saudi Arabia) کی فوجی مدد سے گریز کیا ہے، جبکہ امریکی حکام اور حوثی قیادت کے درمیان عمان میں براہِ راست ملاقات کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکی سفارت خانے میں حوثی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں حوثیوں نے امریکا کو یقین دہانی کرائی کہ 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور ان کا امریکی بحری جہازوں کو بحیرہ احمر میں نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
حوثیوں کے مطابق بحیرہ احمر میں صرف سعودی عرب سے منسلک بحری جہاز یا سعودی تیل لے جانے والے جہاز ان کے ممکنہ اہداف ہیں، جس کی وجہ وہ یمن پر سعودی ناکہ بندی کو قرار دیتے ہیں۔
Houthis told US officials in an Oman meeting that they won’t attack American vessels, Israeli ships, or commercial vessels — only Saudi ones.
This is a notable shift.
Since after the May 2025 ceasefire the Houthis explicitly excluded Israel and kept targeting Israeli-linked… https://t.co/djBOmPTmXg
— Clash Report (@clashreport) September 16, 2026
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پیر کو تصدیق کی کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسی پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے باب المندب کے راستے بحری آمدورفت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، تاہم امریکا نے اب تک سعودی عرب کی حمایت میں براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کروانے کی منظوری دے دی گئی
امریکا پہلے ہی ایران کے ساتھ ایک مہنگی جنگ میں مصروف ہے، جبکہ ایران حوثیوں کی حمایت کرتا ہے۔ امریکا نے مارچ 2025 میں حوثیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، تاہم حالیہ عرصے میں امریکی حکام حماس، حزب اللہ، ایران اور اب حوثی قیادت کے ساتھ بھی براہِ راست رابطے کر چکے ہیں۔
یمن میں حوثیوں نے گزشتہ ہفتے ایک تیز کارروائی کے دوران بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ مغربی یمن کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ امریکی فوجی مدد نہ ملنے کے بعد سعودی عرب پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ حوثیوں کے ساتھ یمن کے مستقبل کے سیاسی نظام پر مذاکرات کرے یا پھر پاکستان اور ترکی سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ اتحاد بنا کر حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرے۔
یمن کے سابق نائب امریکی سفیر نبیل خوری نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور حوثیوں کے درمیان ایک خاموش مفاہمت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، حوثی امریکی انتظامیہ کو یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ بحیرہ احمر میں امریکی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت متاثر نہیں ہوگی، لیکن خطرہ صرف سعودی جہازوں یا سعودی تیل لے جانے والے جہازوں کو ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے منگل کو مقدس شہر مکہ کی جانب ڈرون بھیجا، جسے سعودی فضائی دفاع نے تباہ کردیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات کے قریب ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہورہا تھا اور اسے مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر روک لیا گیا تھا۔
سعودی عرب کا کہنا تھا کہ مکہ پر کسی بھی حملے کو سرخ لکیر سمجھا جائے گا۔ یمن کی عدن میں قائم اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت اور 57 مسلم ممالک کی تنظیم اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔
تاہم حوثی قیادت نے سعودی عرب کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا۔ حوثیوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اس طرح کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں اور اب کوئی ان باتوں سے دھوکا نہیں کھاتا۔
حوثیوں کے نائب وزیر خارجہ عبدالوحید ابو راس نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس نے دو مقدس مساجد کی سرزمین کو عیاشی اور تفریحی تقریبات کے لیے کھولا اور جس نے وہاں صہیونی یہودیوں کی موجودگی سے اس سرزمین کی بے حرمتی کی، وہی مکہ، مدینہ اور اسلامی مقدس مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
حوثیوں نے اس دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے ماریب کے قریب سعودی ایف 15 جنگی طیارہ مار گرایا اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ تاہم حوثی فوجی ترجمان نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
حوثیوں کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد عبدالسلام نے کہا کہ طیارہ مار گرانا مغربی ممالک کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ سعودی ’’پروپیگنڈے‘‘ کا شکار نہ ہوں۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد الفراح نے کہا کہ سعودی عرب یمن میں ایک حقیقی مشکل کا شکار ہے۔ وہ جنگ، محاصرے اور قبضے میں الجھ گیا اور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج وہ بیرونی حل تلاش کر رہا ہے، عالمی برادری سے مدد مانگ رہا ہے اور باب المندب کے بارے میں دنیا کو خبردار کر رہا ہے۔ وہ پاکستان، ترکی، امریکا، اسرائیل اور مصر سے مدد مانگ رہا ہے، پھر مسلمانوں کو ’مکہ کو نشانہ بنانے‘ کے نام پر ایک جھوٹے بہانے کے ذریعے متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔









