رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھائی علی امین(Ali Amin) کو پنجاب پولیس کی حراست میں بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے۔
فیصل امین گنڈاپور نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ پنجاب پولیس کی حراست میں علی امین کو گردن کے پچھلے حصے پر بجلی کی جھٹکے دیے گئے تھے، اس تکلیف دہ چوٹ کو وہ برسوں سے برداشت کر رہے تھے، اور بالآخر اس زخم کو ٹھیک کرنے کیلیے سرجری کی گئی۔
مزیدپڑھیں:عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی گرفتار کرلیا گیا
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بھائی نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کی گردن کے پچھلے حصے پر 6 ٹانکے آئے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر بھائی کے زخم کی تصاویر بھی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصاویر شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن کچھ لوگوں کے پروپیگنڈے کی وجہ سے ایسا کر رہا ہوں، پروپیگنڈا کرنے والوں کے پیاروں کے ساتھ ایسا کچھ ہو تو انہیں پتا چلے۔









