بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان ٹیکنالوجی صارف نہیں،بنانے والا بھی بننا چاہتا ہے، بلال بن ثاقب

اسلام آباد: پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کے سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم سے خطاب کرتے ہوئے عالمی جنوب کے لیے منصفانہ مالی مستقبل کی تشکیل، مالی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں فورم کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ٹوکنائزیشن ترقی پذیر دنیا میں مالی شمولیت کے طاقتور ذرائع ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں بلکہ مؤثر نظام، واضح قواعد اور مضبوط ریگولیٹری فریم ورک بھی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا میں تقریباً ایک ارب 30 کروڑ نوجوان اب بھی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ ان میں سے تقریباً 90 کروڑ افراد کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ان افراد کو مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں واضح ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا ہے۔ ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے بعد ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکس اور لائسنسنگ نظام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ پاکستان میں ورچوئل اثاثہ صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کا محض صارف نہیں بلکہ اسے تخلیق اور ترقی دینے والا ملک بننا چاہتا ہے۔ عالمی جنوب کو اپنی ٹیکنالوجی اور مالیاتی مستقبل خود تشکیل دینا ہوگا، جبکہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے موجودہ دور کی ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ ضروری ہے۔

چیئرمین پیوارا نے کہا کہ ٹیکنالوجی صرف مالی شمولیت نہیں لاتی بلکہ مؤثر ریگولیشن بھی ناگزیر ہیں۔ ٹیکنالوجی اور ضابطہ کاری کے امتزاج سے حقیقی مالی شمولیت ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:علی بابا نے چینی تاریخ کی طاقتور ترین چپ بنا ڈالی، نیا اے آئی ماڈل بھی متعارف

فورم میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈاکٹر خلیل الرحمٰن، بھوٹان کے وزیراعظم اور نوبیل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس سمیت عالمی رہنماؤں اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ پاکستان کی جانب سے فورم میں نوجوان اختراع کاروں کو نئے اور قابلِ عمل حل تشکیل دینے کا پیغام بھی دیا گیا۔