حکومت نے پنشن اصلاحات کیلئےمزید 50 کروڑ ڈالر قرض لینے کا پلان تیار کر لیا، ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایک سو اڑتیس ارب 48کروڑ روپے کے مساوی قرض لیا جائے گا ۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کو ٹرانسفارمنگ پبلک سیکٹر پنشن پروگرام کا نام دیا گیا ہے، اے ڈی بی سے 50 کروڑ ڈالر کا پروگرام لون 3 سال کیلئے ہوگا، بینک مجوزہ پروگرام کیلئے 15 کروڑ 92 لاکھ روپے تکنیکی امداد بھی دے گا۔
نیا پروگرام یکم نومبر2026 سے شروع ہو کر نومبر 2029 میں مکمل ہوگا ، وفاقی حکومت کا سالانہ پنشن بل 1169 ارب روپے تک پہنچ گیا، نیا قرض پروگرام اصلاحات کے نتائج سے منسلک ہوگا۔
وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ پنشن سسٹم قومی خزانہ پر بڑا مالی بوجھ بن چکا ہے، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو ہر سال بجٹ سے پنشن بل ادا کرنا پڑتا ہے، پنشن کا خرچ اور طویل مدتی ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں۔
صحت، تعلیم، انفرااسٹرکچر پراجیکٹس کیلئےفنڈزکی گنجائش کم ہورہی ہے،2024 سے نئی بھرتیوں کیلئے کنٹری بیوشن پنشن اسکیم معارف کرائی گئی ، پرانی ڈیفائنڈ بینیفٹ اسکیم میں اصلاحات کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں:پشاور موٹروے کھول دی گئی، جی ٹی روڈ پر بھی ٹریفک بحال، ترجمان
اصلاحات کو چلانے، نئی اسکیم قائم کرنے کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات درکار ہیں، اس مقصد کیلئے انتظامی اور مالیاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان پنشن اصلاحات کیلئے اے ڈی بی، عالمی بینک سے پہلے بھی قرض لے چکا ہے۔









