نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (Nadra) نے 18 سال کی عمر کے بعد پہلی بار قومی شناختی کارڈ بنوانے والے شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔
نادرا کے مطابق ایسے درخواست گزار جن کے والدین یا بہن بھائی نادرا میں رجسٹرڈ نہیں یا دستیاب نہیں، انہیں شناختی کارڈ کے لیے درخواست جمع کرانے سے قبل ضروری دستاویزات اور تصدیق کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔
نادرا نے کہا ہے کہ درخواست گزار کو تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش کا سرٹیفکیٹ یا شہریت کا سرٹیفکیٹ یا نیچرلائزیشن سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہوگا۔
درخواست گزار کو 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 2 ایسے گواہ بھی ساتھ لانا ہوں گے جن کے پاس درست شناختی کارڈ موجود ہو اور جن کی بائیومیٹرک تصدیق کی جاسکے۔
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف نے پاکستان کو اسٹاف لیول معاہدے کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دے دی
نادرا کے مطابق گواہوں کے لیے درخواست گزار کے والد یا والدہ کی جانب سے رشتہ داروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اگر ایسے رشتہ دار دستیاب نہ ہوں تو اسی علاقے کا کوئی ایسا شخص گواہ بن سکتا ہے جس کے پاس شناختی کارڈ یا نائیکوپ موجود ہو اور وہ درخواست گزار کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔
درخواست گزار کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق حلف نامہ ‘بی’ بھی جمع کرانا ہوگا، جبکہ درخواست فارم کی تصدیق ضابطہ 9 کے تحت مجاز شخص سے کرانا ضروری ہے۔
نادرا نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی اضافی دستاویزات موجود ہوں تو وہ بھی ساتھ لائیں۔ پہلی بار شناختی کارڈ کے لیے درخواست قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز میں جمع کرائی جاسکتی ہے۔









