وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادیاتی تبدیلی کو انسانی وسائل کی بہتر ترقی اور روزگار کے زیادہ مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، محمد اورنگزیب
بنکاک، تھائی لینڈ میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے اثرات سے نمٹنے اور انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور دیا ۔
آبادیاتی تبدیلی کو انسانی وسائل کی ترقی اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنے کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے ممکنہ معاشی فوائد سے فائدہ اٹھانے کے لیے مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تیزی سے بڑھتی آبادی اور اس کے صحت، تعلیم اور روزگار پر مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے آبادیاتی تبدیلی کو انسانی وسائل کی بہتر ترقی اور روزگار کے زیادہ مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
محمد اورنگزیب نے انڈونیشیا، بنگلا دیش اور ایران کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کی تعلیم، افرادی قوت میں ان کی شمولیت اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے سے متعلق آگاہی کو اہم ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے آبادی سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ رابطے اور تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں قومی آبادی کونسل قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط اقدامات، مسلسل سیاسی عزم اور قابلِ پیمائش نتائج ضروری ہیں، تاکہ مختلف اداروں کی جانب سے الگ الگ کیے جانے والے اقدامات کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت یکجا کیا جاسکے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان آبادی میں اضافے سے حاصل ہونے والے ممکنہ معاشی فوائد سے اسی صورت میں بھرپور استفادہ کرسکتا ہے جب ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کے ساتھ نجی شعبے کی قیادت میں روزگار پیدا کرنے والی معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے انسانی وسائل کی ترقی کو معاشی مواقع میں بدلنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں:ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا حد سے آگے نکل گیا، ٹرمپ کا اہم اعتراف
وزیر خزانہ نے فری لانسنگ، آئی ٹی سے متعلق خدمات اور ڈیجیٹل مہارتوں کو نوجوانوں کی آمدنی بڑھانے اور ملکی برآمدات میں اضافے کے اہم مواقع قرار دیا۔ انہوں نے آبادی، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مربوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف اقدامات کو مشترکہ لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھانا ضروری ہے۔









