اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا پلاسٹک فری شہر بنانے کیلئے وفاقی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کردی گئی۔ پلاسٹک شاپنگ بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کردی گئی۔
ہزاروں کلوگرام ممنوعہ بیگز ضبط لیکن متبادل بیگز کی قیمت اور دستیابی تاجروں کے لیے بڑا چیلنج بن گئی۔
مارگلہ کی سرسبز پہاڑیاں، صاف ستھری شاہراہیں اور خوبصورت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد لیکن پلاسٹک کی آلودگی اس شہر کے حسن اور ماحول کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے 31 دسمبر 2026 تک اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا پلاسٹک فری شہر بنانے کی ٹھان لی۔
وفاقی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا پلاسٹک بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کردیا گیا، انتظامیہ کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران 3200 سے زائد کارروائیاں کی گئیں۔ تقریباً 7 ہزار کلوگرام ممنوعہ پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے۔ تاجروں کو پلاسٹک بیگز کی جگہ ماحول دوست متبادل اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن اس کی بھاری قیمت چھوٹے تاجروں کیلئے بڑا مسئلہ بن گئی ۔ دکاندار کہتے ہیں ہر گاہک سے مہنگے بیگ کی قیمت وصول کرنا بھی آسان نہیں۔ سستا متبادل ضروری ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ کپڑے کے شاپر کی قیمت عام پلاسٹک بیگ سے 5 سے چھ گنا زیادہ ہے۔ گاہک اضافی پیسے دینے کو تیار نہیں ہوتے اس لیے متبادل بیگ کی قیمت بھی ہمیں خود برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ایک ماحول دوست شاپر ہمیں تقریباً 10 روپے میں پڑتا ہے۔ جس دکان سے روزانہ دو سے 3 ہزار شاپر استعمال ہوتے ہوں اس کے لیے یہ اخراجات کتنے بڑھ جائیں گے؟ حکومت کو چھوٹے تاجروں کے لیے کوئی قابلِ عمل حل دینا چاہیے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی گاہک ایک کلو دال یا چنے خریدتا ہے تو ہم اسے کس چیز میں ڈال کر دیں؟ کھلی اشیاء کے لیے بھی کوئی مناسب متبادل ہونا چاہیے۔ فیصلے کرنے والوں کو دکانداروں کی عملی مشکلات بھی دیکھنی چاہییں۔
دوسری جانب شہریوں کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت پلاسٹک بیگز پر پابندی چاہتی ہے تو اس کی تیاری اور فراہمی کا نظام بھی مؤثر بنائے۔ صرف جرمانے اور پکڑ دھکڑ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور ندی نالوں کو پلاسٹک کے باعث بند ہونے سے بچانے کے لیے پلاسٹک کا استعمال کم کرنا ناگزیر ہے۔ تاہم اس مہم کی کامیابی کے لیے صرف کریک ڈاؤن کافی نہیں بلکہ سستے متبادل کی دستیابی اور عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔
پلاسٹک کی آلودگی ماحول کے لئے ایک زہر قاتل
ماہرین کے مطابق پلاسٹک کی آلودگی ماحول کے لئے ایک زہر قاتل ہے کیونکہ پلاسٹک کو گلنے میں برسوں لگتے ہیں اور اسی طرح پلاسٹک کا زیادہ تر فضلہ یا تو جلا دیا جاتا ہے یا لینڈ فلز میں بھیجا جاتا ہے، جس سے ہماری ہوا، زمین اور سمندر آلودہ ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ دور حاضر میں پلاسٹک ہر جگہ اور ہر شعبے میں استعمال ہورہا ہے اس کی وجہ پلاسٹک کی کم قیمت، استحکام اور استعداد ہے، پلاسٹک ہماری زندگی سے مکمل تو ختم نہیں ہوسکتا لیکن حتی الامکان یہی کوشش کرنی چاہیے اس کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 500 بلین پلاسٹک کے تھیلے استعمال ہوتے ہیں، اور صرف پاکستان میں سالانہ 60 ارب پلاسٹک بیگز استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر ہر منٹ میں دس لاکھ سے زیادہ پلاسٹک کے تھیلے استعمال ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:کیلیفورنیا، جنگلی ریچھ لائبریری میں داخل، شہد سمیت کھانے کی چیزیں چٹ کرگیا
عالمی ماحولیاتی اداروں کے مطابق اگر اس کے استعمال کو نہ روکا گیا تو سال 2050 تک زمین کی تباہی کے ساتھ ساتھ سمندر میں مچھلیوں سے زیادہ تعداد پلاسٹک کی ہوجائے گی۔









