اسلام آباد(نیوزڈیسک )سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمن الظواہری کے خلاف ڈرون حملے میں پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں ہوئی۔نجی ٹی وی کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے خلاف کابل میں کاروائی میں امریکی حکام نے پاکستان سے کسی قسم کا کوئی انٹیلی جنس تعاون نہیں مانگا اور ایمن الظواہری کے خلاف ڈرون حملے میں پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں ہوئی۔
سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ القائدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے خلاف ڈرون کاروائی میں پاکستان کو کسی قسم کے تعاون کا نہیں کہا گیا، ایمن الظواہری 2004 میں شمالی وزیرستان سے فرار ہو کر افغانستان روپوش ہو گئے تھے۔
سفارتی ذرائع نے مزید کہا کہ ایمن الظواہری کچھ عرصہ قبل سرحدی علاقے سے کابل منتقل ہوئے ، امریکہ نے ان کی موجودگی کا افغانستان میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر سراغ لگایا۔
خیال رہے کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو افغان دارالحکومت کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی سی آئی اے کی یہ کارروائی 31 جولائی 2022ء بروز اتوار کو عمل میں لائی گئی تھی۔
ایمن الظواہری 19 جون 1951ء کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق متوسط طبقے کے ڈاکٹروں اور علما کے ایک قابلِ احترام گھرانے سے تھا۔
ایمن الظواہری کیخلاف ڈرون حملے میں پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں ہوئی ،سفارتی ذرائع








