بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

روس پر نئی پابندیاں معطل، ایران میں بات کرنے کیلئے کوئی نہیں بچا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے کے بڑے حصے کو معطل کر دیا ہے، ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی ساری قیادت ختم ہو گئی، بات کرنے کے لیے کوئی نہیں بچا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق روس پر نئی پابندیاں معطل کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے روس کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر کھلے عام تنقید بھی کی ہے۔

روس پر پابندیوں کے مجوزہ منصوبے کے تحت امریکا کو روس سے درآمد کی جانے والی تمام اشیا، بشمول خام تیل اور گیس، پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا جانا تھا۔ اس منصوبے کے اہم حامی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم تھے، جن کی حال ہی میں وفات ہوئی۔

مجوزہ قانون کے تحت امریکہ ان ممالک کے خلاف بھی کارروائی کر سکتا تھا جو قانون کے نفاذ کے 30 دن کے اندر روس سے جان بوجھ کر تیل یا گیس خریدتے یا پابندیوں سے بچنے میں روس کی مدد کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہوتے۔

روس پر پابندیوں کو معطل کرنے کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے اس اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے امریکہ نے روس سے ڈیزل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔

مزیدپڑھیں:سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا: جنرل عامر رضا

ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں روس اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ’لنڈسے گراہم ایکٹ‘ کے نام سے ایک بل پر دستخط کیے تھے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شاید انہوں نے ایرانی رہنماؤں کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی سخت رویہ اپنا لیا، کیونکہ اب ان کے پاس بات کرنے کے لیے کوئی نہیں بچا۔

جارجیا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، امریکا کے پاس اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام اور رہنماؤں کی تمام باتیں سننے کی صلاحیت موجود ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یقیناً یہ خفیہ اور راز کی بات ہے، لیکن میں نے اب اسے ظاہر کر دیا ہے۔

اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جنگ کو ایک فوجی مشق قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے آبنائے ٹرمپ رکھ دیا جائے تو عرب ممالک کو کیسا محسوس ہوگا؟ یہ کام ہم آسانی سے کر سکتے ہیں۔