بیجنگ/ہانگ کانگ: چین کے مرکزی بینک “پیپلز بینک آف چائنا” (PBOC) نے ملکی معاشی استحکام کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹوں میں اپنی کرنسیی وآن کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے ایک اور تاریخی اور اہم پیش رفت کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی جریدے “ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ” (SCMP) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، بیجنگ میں منعقدہ فنانشل اسٹریٹ فورم کے دوران مرکزی بینک کے گورنر پان گونگ شینگ نے پانچ بڑے نئے مالیاتی اقدامات کا نقاب کشائی کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت جہاں غیر ملکی بینکوں کو چین کی آن شور فورن ایکسچینج انٹربینک مارکیٹ میں براہِ راست تجارت کی اجازت دی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب غیر بینک مالیاتی اداروں کے لیے باؤنڈ مارکیٹ لیکیویڈیٹی بیک اسٹاپ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی بینکوں کو آن شور مارکیٹ تک رسائی اور یوآن کی بین الاقوامی مقبولیت:
تفصیلات کے مطابق، چین نے اپنی مالیاتی مارکیٹ کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مزید کھولنے اور یوآن (RMB) کی بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لیے آٹھ آف شور یوآن کلیئرنگ بینکوں کو آن شور انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں پراپرائٹری ٹریڈنگ (Proprietary Trading) کی اجازت دینے کا پائلٹ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے غیر ملکی مالیاتی ادارے آن شور مارکیٹ میں یوآن کی خرید و فروخت براہِ راست کر سکیں گے، جس سے عالمی منڈیوں میں یوآن کی لیکیویڈیٹی اور اس کا استعمال نمایاں طور پر بڑھے گا۔

اس کے علاوہ، چین کی سیکورٹیز کمپنیوں کو بھی بیرونی زرمبادلہ کی سیٹلمنٹ اور سیلز کے دائرہ کار کو بڑھانے کی اجازت دی جا رہی ہے تاکہ بیرونِ ملک توسیع پانے والی چینی کمپنیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو آسان سہولیات میسر آ سکیں۔ گورنر پان گونگ شینگ نے زور دے کر کہا کہ چین کی نیت کبھی بھی اپنی کرنسی کی قدر میں مصنوعی کمی کر کے تجارتی فائدے حاصل کرنے کی نہیں رہی، بلکہ بیجنگ کا بنیادی مقصد یوآن کو ایک مضبوط، مستحکم اور عالمی سطح پر قابلِ قبول اثاثہ بنانا ہے۔
باؤنڈ مارکیٹ کے لیے لیکیویڈیٹی بیک اسٹاپ اور نان بینک اداروں کی معاونت:
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پی بی او سی نے باؤنڈ مارکیٹ میں متوقع مالیاتی دباؤ اور غیر بینک مالیاتی اداروں (Non-Bank Financial Institutions) سے نکلنے والے بھاری سرمائے کی واپسی (Large Redemptions) کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک باقاعدہ “لیکیویڈیٹی بیک اسٹاپ” (Liquidity Backstop) نظام قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نظام کا مقصد باؤنڈ مارکیٹ میں اچانک پیدا ہونے والی عدم استحکام کی صورتحال کو روکنا ہے تاکہ معاشی دھچکوں کو مؤثر طریقے سے برداشت کیا جا سکے اور سیکیورٹیز و میوچل فنڈز جیسے اداروں کو فوری نقد رقم کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
مزید برآں، چین میں قائم شدہ غیر ملکی قانونی ملکیت والے بینکوں (Foreign-Funded Legal-Person Banks) کو مرکزی بینک کی اسٹینڈنگ لینڈنگ فیسیلٹی (SLF) کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا، جس سے ان بینکوں کو ایمرجنسی فنڈنگ کے مواقع میسر آئیں گے اور چین کے اندر ڈومیسٹک اور ایکسچینج باؤنڈ مارکیٹس کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط ہو گی۔
شرائع سود کا نیا فریم ورک اور مرکزی بینک کی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں:
پیپلز بینک آف چائنا کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے ان پانچ بڑے اقدامات میں شرحِ سود کے نظام میں ایک تاریخی تبدیلی بھی شامل ہے۔ مرکزی بینک اب 7-دن کی اوپن مارکیٹ آپریشنز کے بجائے اوور نائٹ ریپو ریٹ (DR001) کو اپنا بنیادی پالیسی ریٹ (Main Policy Rate) بنانے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کا مقصد روایتی ڈپازٹ اور لینڈنگ بینچ مارک ریٹس کو مرحلہ وار ختم کرنا اور مارکیٹ پر مبنی انٹرسٹ ریٹ کے طریقہ کار کو نافذ کرنا ہے۔
اس اصلاحاتی عمل سے بینکوں کے نیٹ انٹرسٹ مارجن پر اثرات مرتب ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ہی چین کے معاشی نظام میں کریڈٹ اور فنڈز کی دستیابی زیادہ شفاف اور تیز تر ہو جائے گی۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ بیجنگ کے یہ یکے بعد دیگرے اقدامات ایک طرف تو چین کے جی ڈی پی کی شرح نمو کو مستحکم رکھنے میں مدد دیں گے اور دوسری طرف عالمی سرمایہ کاروں کو چینی منڈیوں کی جانب متوجہ کریں گے۔









