بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 کیلیفورنیا کے ارب پتی افراد کی پروپوزل چالیس کے خلاف کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری

لاس اینجلس کیلیفورنیا میں سیاسی اور معاشی حلقوں میں اس وقت شدید ہلچل مچی ہوئی ہے جب ریاست کے چند سرکردہ اور انتہائی بااثر ارب پتی افراد نے حالیہ بیلٹ میژرپروپوزل 40کے خلاف کروڑوں ڈالر کی بھاری رقم جھونک دی ہے۔ اس خوفناک حد تک بڑی مالیاتی مہم کا بنیادی مقصد نئی ٹیکس اصلاحات اور مجوزہ قانونی تبدیلیوں کو ہر قیمت پر روکنا ہے، جس کے بعد اب عوامی، سیاسی اور سماجی سطح پر ایک نیا محاذ کھل چکا ہے۔

لاس اینجلس کے سیاسی اور تجارتی افق پر ایک بڑا مالیاتی طوفان برپا ہے جہاں کیلیفورنیا کی معیشت، پالیسی سازی اور انتخابات میں ملک کے امیر ترین افراد کی مداخلت ایک بار پھر بحث کا مرکزی موضوع بن گئی ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والے دفتری اور انتخابی اعداد و شمار کے مطابق، ریاست کے ارب پتی اور ملٹی نیشنل ہولڈرز نے پروپوزل 40 کی ناکامی کو یقینی بنانے کے لیے لاکھوں ڈالر کے اشتہاری مہمات، سیاسی عطیات اور عوامی رابطہ مہمات پر پانی کی طرح پیسہ بہانا شروع کر دیا ہے۔ ناقدین کا سخت موقف ہے کہ اس طرح کی بے تحاشا سرمایہ کاری عوامی فیصلے کو بدلاؤ کی طرف جانے سے روکنے اور جمہوری عمل کو مفلوج کرنے کی کھلی کوشش ہے۔

پروپوزل 40 کا پس منظر اور بنیادی تنازع:
پروپوزل 40 کو کیلیفورنیا کے روایتی ٹیکس اور معاشی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس قانون کا اصل مسودہ اس بات کی تقاضا کرتا ہے کہ ریاست کے انتہائی بلند آمدنی والے طبقات، کارپوریٹ سیکٹرز اور بڑی جائیدادوں کے مالکوں پر اضافی ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر خرچ کیا جا سکے۔

مجوزہ مسودے کے تحت اکٹھا ہونے والا اربوں ڈالر کا ریونیو براہ راست ریاست کے ابتر تعلیمی نظام، ہسپتالوں میں مفت اور سستے علاج کی سہولیات، سستے گھروں کی تعمیر، اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر خرچ کیا جانا ہے۔ اس کے علاوہ، اس فنڈز سے آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے منصوبوں کو بھی مالی معاونت فراہم کی جانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلاحی تنظیمیں، اساتذہ، اور مزدور طبقہ اسے ایک امید کی کرن سمجھ رہا ہے۔

سرمایہ کاروں کا ردعمل اور معاشی خدشات:
دوسری جانب، امریکہ اور کیلیفورنیا کے بڑے سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی گروپس اور کاروباری طبقے کا موقف بالکل مختلف ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ریاست پہلے ہی امریکی تاریخ کے سخت ترین ٹیکس قوانین کی زد میں ہے، اور ایسی صورت میں مزید ٹیکس لگانا معاشی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔

اربابِ اختیار اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ پروپوزل 40 کی منظوری سے کارپوریٹ سیکٹر کی حوصلہ شکنی ہوگی، جس سے بالآخر بڑی کمپنیاں اپنی فیکٹریاں اور دفاتر کیلیفورنیا سے منتقل کر کے کم ٹیکس والی دیگر ریاستوں میں لے جائیں گی۔ اس کا براہ راست اور بھیانک اثر نوکریوں کے مواقع پر پڑے گا اور مقامی معیشت شدید کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی خوف کو بنیاد بناتے ہوئے ارب پتی افراد نے مل کر ایک وسیع ایئر ویوز اور ڈیجیٹل کمپین چلا رکھی ہے تاکہ عام ووٹرز کو اس ترمیم کے خلاف لایا جا سکے۔

سیاسی صف بندیاں اور رائے عامہ کی تقسیم:
اس تنازع نے کیلیفورنیا کی تمام اہم سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور عوامی حلقوں کو شدید طور پر تقسیم کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اس موضوع پر اختلافِ رائے دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں ایک گروہ اسے سماجی انصاف کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے تو دوسرا معاشی استحکام کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔

مزدور یونینز، سول سوسائٹی کے ارکان اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس ارب پتی طبقے کی مالیاتی طاقت کی کھلی مذمت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محض چند سو افراد اپنی دولت کا استعمال کر کے کروڑوں عوام کے مستقبل اور بہبود کے فیصلوں کو یرغمال بنا رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی ناہمواری کے موجودہ دور میں، ارب پتی طبقے کو بھی معاشرے کی ترقی کے لیے اپنا واجب الادا حصہ ادا کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج اور مستقبل کے ممکنہ اثرات:
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پروپوزل 40 پر ہونے والی آئندہ ووٹنگ صرف کیلیفورنیا کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے امریکہ کے لیے ایک اہم مثال قائم کرے گی۔ اگر ارب پتی طبقہ اپنی دولت کے بل بوتے پر اس مسودے کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے یہ پیغام جائے گا کہ عوامی اصلاحات پر بڑی سرمایہ کاری ہمیشہ غالب رہے گی۔

اگر یہ قانون پاس ہو جاتا ہے، تو کیلیفورنیا دیگر ریاستوں کے لیے ایک ماڈل بن کر سامنے آئے گا جو کارپوریٹ سیکٹر اور امیروں پر ٹیکس لگا کر عوامی بہبود کے منصوبے مکمل کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بیلٹ میژر پر ووٹنگ کا معرکہ انتہائی کانٹے دار اور تاریخی ہونے جا رہا ہے، جس کے اثرات کئی دہائیوں تک امریکی سیاست اور معیشت پر محسوس کیے جاتے رہیں گے۔