یمن کے حوثی(Houthi) باغیوں نے سعودی عرب(Saudi Arabia) کے خلاف جنگ میں روایتی میزائلوں اور ڈرونز کے برعکس ایک منفرد حکمتِ عملی کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت سنگین جنسی جرائم میں ملوث امریکی مجرم جیفری ایپسٹین اور مالیاتی اسکینڈلز کو سعودی عرب کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق حوثی گروپ نے حالیہ ہفتوں میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ جیفری ایپسٹین کی ان دستاویزات کو استعمال کرکے پروپیگنڈا شروع کیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی شاہی خاندان کے قریبی اشخاص کی جانب سے خانہ کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو تحفے میں بھیجے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، اس پروپیگنڈا مہم کے لیے بیانات، ویڈیوز، گانے، تقاریر اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حامی سعودی ریاست کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکے۔
حوثی قیادت کی جانب سے یہ پروپیگنڈا مہم جنگ کے دوبارہ آغاز کے بعد سے مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس پروپیگنڈا کے ذریعے خوثی خود کو بیرونی ”اسلام کے محافظ“ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ سعودی عرب نے حوثیوں پر مکہ مکرمہ کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا جسے حوثی گروپ نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
مزیدپڑھیں:لوئر دیر کے علاقوں میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، 5 بچے جاں بحق
اس تناظر میں حوثی صدر مہدی المشاط نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”جن لوگوں نے ایپسٹین کو کعبہ کا غلاف دیا وہی مکہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔“
دوسری جانب سعودی حکام کی جانب سے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے رواں سال کے اوائل میں جاری کردہ ایپٹین سے جڑی اِن فائلوں یا حوثی الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
حوثی پلیٹ فارمز پر اس بیانیے کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جہاں 27 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والے یمنی کامیڈین مصطفی المومری نے اس موضوع پر ایک ویڈیو بنائی ہے جبکہ ایک روایتی یمنی موسیقار نے بھی اس دعوے پر گیت تخلیق کیا ہے۔
سنہ 2023 میں جیل سے رہائی کے بعد حوثی مخالف سے حامی بننے والے اس کامیڈین نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر بھی تنقید کی ہے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی بھی اپنی تقاریر میں جیفری ایپسٹین کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایپسٹین کی فائلیں اس صیہونی ماحول کو بے نقاب کرتی ہیں جو عالمی رہنماؤں اور اشرافیہ کی تربیت کرتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کی یہ حکمت عملی کچھ حلقوں میں اثر دکھا رہی ہے، یہاں تک کہ دائیں بازو کے مشہور امریکی پوڈ کاسٹر جیک شیلڈز نے بھی ایپسٹین فائلوں کے تناظر میں حوثیوں کی تعریف کی ہے اور ان کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔









