اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ(Gadi Eisenkot) نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب اسرائیل کی قیادت کے لیے موزوں نہیں رہے۔
آئزن کوٹ، جو اپوزیشن جماعت یشار کے سربراہ اور اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ہیں، نے نیتن یاہو کے حالیہ معاشی منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اسرائیل کو عالمی مالیاتی نظام سے دور کرنے کی سمت لے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق ایسی پالیسی ملک کی معیشت، قومی سلامتی اور عالمی تعلقات کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے ممکنہ بین الاقوامی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین پر مبنی متبادل ادائیگیوں کی تیاری کے منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
مزیدپڑھیں:ایران: بندر عباس کے قریب کارروائی، تہران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
انہوں نے طنزیہ طور پر اسے ’’بی بی کوائن‘‘ قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ عالمی بینکاری نظام سے دوری کی صورت میں اسرائیلی کمپنیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کے عام انتخابات سے صرف چند روز قبل سامنے آیا ہے۔ آئزن کوٹ نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریفوں میں شامل ہیں اور انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم کی جنگی حکمت عملی اور طویل عرصے سے جاری فوجی کارروائیوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
آئزن کوٹ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ تین سالہ جنگ کے بعد نیتن یاہو کسی نئی ایران مخالف فوجی کارروائی کی قیادت کرنے کے اہل نہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے موجودہ مسائل کا حل مزید جنگ کے بجائے ایک مختلف سیاسی اور سکیورٹی حکمت عملی میں ہے.









