کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ کا جولائی تا ستمبر کا ریکارڈ جاری کر دیا ۔ صدر ، وزیراعظم سمیت کئی حکومتی شخصیات کو قیمتی تحائف ملے۔کابینہ ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق تمام تحائف کابینہ ڈویژن کے سپرد کئے گئے ہیں جن کی قیمت کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
توشہ خانہ کابینہ ڈویژن کے زیرِ انتظام سرکاری ادارہ ہے، جہاں صدرِ مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزراء، سرکاری افسران اور دیگر مجاز عہدیداروں کو غیر ملکی سربراہانِ مملکت، حکومتوں اور اہم شخصیات کی جانب سے ملنے والے تحائف جمع کرائے جاتے ہیں۔
متعلقہ قواعد کے تحت سرکاری عہدیداروں کے لیے ایسے تحائف کی اطلاع دینا اور انہیں توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہے، جبکہ تحائف کو اپنے پاس رکھنے، ان کی مقررہ قیمت ادا کرنے یا نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کا فیصلہ مروجہ پالیسی اور قواعد کے مطابق کیا جاتا ہے۔
کابینہ ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق صدر زرداری کو میوزیکل انسٹرومنٹ، تیر کمان سیٹ، قالین ،آرائشی اشیاء اور دیگر تحفے ملے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک کلو سونا ملا۔ وزیراعظم کو قالین، روضہ رسولﷺ کا ماڈل، ٹائی، کف لنکس، ٹیبل کلاک اور دیگر اشیاء بھی تحفے میں ملیں۔
کابینہ ڈویژن کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 19 تحائف کے ساتھ فہرست میں سب سے آگے ہیں، اسحاق ڈار کو پینٹنگز، پرفیوم، کف لنکس، کپس اور دیگر تحائف ملے۔
اس کے علاوہ وفاقی وزراء عطاء تارڑ، شزا فاطمہ ، حنیف عباسی اور احد چیمہ بھی تحائف لینے والوں میں شامل ہیں۔
واضح رہے توشہ خانہ کا معاملہ 2022 میں اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب سابق وزیراعظم عمران خان پر سرکاری دوروں کے دوران ملنے والے تحائف اپنے پاس رکھنے اور انہیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کے الزامات سامنے آئے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں کی مذمت، افغان حکومت کے الزامات مسترد
اکتوبر 2022 میں الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو نااہل قرار دیا۔ اس معاملے پر پیدا ہونے والی سیاسی و قانونی بحث اور سرکاری تحائف کے ریکارڈ تک عوامی رسائی کے مطالبات کے بعد مارچ 2023 میں وفاقی حکومت نے 2002 سے 2023 تک توشہ خانہ میں جمع کرائے گئے تحائف کا ریکارڈ عام کیا، جس میں مختلف حکومتی ادوار کے دوران سرکاری عہدیداروں کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات شامل تھیں۔









