ایتھوپیا کے علاقے اورومیا میں آرتھوڈوکس عیسائیوں کے دیہات اور گرجا گھروں پر مسلح حملوں میں 60 افراد ہلاک اور 20 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔
ایتھوپیا کا سب سے بڑا علاقہ اورومیا طویل عرصے سے مسلح شورش اور حکومت مخالف سرگرمیوں کی لپیٹ میں ہے۔ اس علاقے میں حکومتی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث متعدد علاقوں میں امن و امان کی صورتِحال متاثر ہوئی ہے۔
جبکہ شہری آبادی کو تشدد، نقل مکانی اور املاک کے نقصان جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ اورومیا میں سیاسی، نسلی اور علاقائی اختلافات بھی تنازعے کو پیچیدہ بناتے رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایتھوپیا کے آرتھوڈوکس چرچ نے ایک بیان میں کہا کہ 20 اکتوبر کو میرٹی وریڈا میں 14 جبکہ 24 اکتوبر کو شیرکا وریڈا میں 46 افراد کو ہلاک کیا گیا۔ تاہم چرچ حکام نے ہلاکتوں کی تفصیلات یا حملوں کے ذمہ داروں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں۔
چرچ کے مطابق حملوں کے دوران 20 سے زائد مکانات بھی جلا دیے گئے، جبکہ 20 سے زائد شدید زخمی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
حملوں کے ذمہ داروں کے حوالے سے ایتھوپیا کی علاقائی حکومت اور حکومت مخالف مسلح اتحاد سے منسلک ایک ذریعے نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں۔ اورومیا کی علاقائی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ باغی اتحاد نے مذہبی تنازع بھڑکانے کے لیے حملے کیے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب باغی اتحاد سے منسلک ذریعے نے دو مقامی افراد سے ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ہلاکتوں کے پیچھے اورومیا کی علاقائی حکومت کا ہاتھ ہے۔
اورومیا کی حکومت ماضی میں بھی آرتھوڈوکس عیسائیوں پر حملوں کا الزام باغی تنظیم اورومو لبریشن آرمی (او ایل اے) پر عائد کرتی رہی ہے تاہم تنظیم نے ان تازہ حملوں سے متعلق رائٹرز کو مؤقف نہیں دیا۔
او ایل اے ان سات مسلح گروہوں میں شامل ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اتحاد کا مقصد وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کا تختہ الٹنا بتایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:مستحق صارفین کیلئے200 یونٹ کی حد بڑھا کر 250 کرنے پر غور جاری، اویس لغاری
خیال رہے ملک کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات نے شہریوں کی سلامتی اور مذہبی برادریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ تازہ حملوں کے ذمہ داروں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔








