پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان لانگ مارچ کی حکمت عملی پر پھٹ پڑے اور پلان اے بی سی کے کیے گئے دعوؤں پر سوالات اٹھائے۔
میڈیا کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورت حال، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ، اراکین کی مبینہ گمشدگی سمیت دیگر معاملات پر گفتگو کی گئی۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کی حکمت عملی پر ارکان پھٹ پڑے اور قیادت سے سوال کیا کہ پلان اے، بی، سی اور ڈی کا شور مچایا گیا مگر عملی منصوبہ نظر نہیں آیا۔
ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کی حکمت عملی بنی مگر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، ناکام حکمت عملی کی وجہ سے ایک صوبے میں حکومت چلی گئی، پارٹی کا ردعمل کہاں ہے؟
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں آئندہ لائحہ عمل پر ارکان کی رائے طلب کی گئی جبکہ اجلاس میں ارکان نے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا ٹاسک دینے اور سیاسی رابطوں میں ناکامی پر بھی سوالات کیے۔
مزید پڑھیں:عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کے نرخ گر گئے
اجلاس میں ارکان نے خیبرپختونخوا مین گورنر راج اور ایمرجنسی پر خاموشی چھوڑ کر پارلیمانی پارٹی کو متحرک کرکے مؤثر ردعمل دینے کی تجویز دی جبکہ حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے یا احتجاج کا دائرہ بڑھانے پر بھی مشاورت کی گئی۔








