قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران جمعیت علماء اسلام (JUI) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع خواجہ آصف پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہی کا مشہور زمانہ جملہ واپس پلٹا دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں دفاعی معاہدے ایران میں ہو رہے ہیں اور وزیر دفاع یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، کیا وہ بھی وزارتِ داخلہ کا کام ہے؟
جے یو آئی سربراہ نے خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی عزت و وقار کا خیال رکھیں، کیونکہ کوئی شرم ہوتی ہے اور کوئی حیا ہوتی ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ میں ملکی امور اور وزراء کی ذمہ داریوں پر کڑے سوالات اٹھائے اور موجودہ سیاسی صورتحال پر سخت موقف کا اظہار کیا۔
مزیدپڑھیں:سونے کی قیمتیں گرگئیں
واضح رہے کہ ”کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے“ پاکستانی سیاست میں سب سے زیادہ دہرائے جانے والے جملوں میں سے ایک ہے۔ برسوں قبل خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے قانون سازوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ جملہ استعمال کیا تھا، جو بعد ازاں ایک مقبول ’میم‘ بن گیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے فوراً نشاندہی کی کہ شاید یہ پہلا موقع ہے جب یہی جملہ خود خواجہ آصف کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، اور وہ اس وقت ایوان میں موجود بھی تھے۔ اسی تقریر کے دوران، فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ ایک ساتھ بیٹھیں اور ’جمہوریت کا نیا چارٹر‘ مرتب کریں۔









