بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جنگ کے خاتمے کیلئے قطری تجاویز ناقابل قبول، غور کے بعد جواب دینگے، ایران

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے قطر کی جانب سے پیش کردہ تازہ تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے جوہری پروگرام پر مؤقف میں لچک سے دکھانے سے انکار کیا ہے.

پاکستان اور قطر کی ثالثی کے نتیجے میں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان عبوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا اور مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔

تاہم ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جاری لڑائی سمیت اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث عبوری معاہدہ مستقل امن میں تبدیل نہ ہو سکا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطر نے فریقین کے تحفظات دور کرنے کے لیے سات روزہ مجوزہ معاہدے کا مسودہ پیش کیا ہے۔ جس پر تہران غور کر رہا ہے اور ایران کی جانب سے ہفتے کے اختتام تک جواب متوقع ہے۔

رائٹرز نے عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ معاہدے میں امریکا اور ایران کے خدشات دور کرنے کے لیے 7 روز کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت دونوں فریق روزانہ کی بنیاد پر اعتماد سازی کے اقدامات کریں گے۔ معاہدے پر عمل درآمد آئندہ ہفتے کے آغاز میں شروع ہو سکتا ہے، جبکہ متعدد ممالک اس کی ضمانت دیں گے۔

رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں شریک ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ قطر نے صرف ”ناقابل قبول خیالات پیش کیے ہیں، کوئی باقاعدہ پیشکش نہیں کی“۔ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ جوہری معاملے پر تہران کے مؤقف میں لچک پیدا نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ایران ثالثوں کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں ہے اور ایسی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جن کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے اپنے سات روزہ منصوبے پر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

’ایران سفارتکاری کو موقع دے رہا ہے‘
انہوں نے کہا کہ ایران سفارتکاری کو کامیاب ہونے کا موقع دے رہا ہے اور اس کی مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

رائٹرز کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران کے کئی دہائیوں پر محیط جوہری پروگرام کو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ابتدا ہی سے شامل کیا جائے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کی شرائط پہلے پوری کی جائیں۔

ایران کے مطالبات میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکا بندی ختم کرنا اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔ تہران اس مغربی مؤقف کو بھی مسترد کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے۔

ستمبر کے اواخر میں ایران نے 7 روزہ منصوبہ پیش کیا تھا۔ عباس عراقچی کے مطابق اس منصوبے کے تحت مخصوص شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد قطر نے ثالثی کی کوششیں تیز کردی تھیں۔

نیا مسودہ ایران کی سابقہ تجویز سے مختلف
رائٹرز نے بتایا کہ مذاکرات سے باخبر عہدیدار کے مطابق اتوار کو تہران میں زیر بحث آنے والا نیا مسودہ ایران کی سابقہ تجویز سے مختلف ہے۔ تاہم تازہ منصوبے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ قطر کے ثالث تہران جانے سے پہلے واشنگٹن کے ساتھ رابطہ کر چکے تھے۔

رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر عہدیدار نے بتایا کہ اتوار کو تہران میں ملاقات سے قبل یہ خدشات موجود تھے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو دوبارہ انتخابات میں کامیابی کے لیے سیاسی مہم کے دوران اسی ہفتے ایران پر حملے بحال کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک بار پھر ایران پر حملوں کی دھمکی دی تھی، جبکہ ایرانی سکیورٹی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے نئے حملوں کی صورت میں خلیج میں زیر سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کرلیے ہیں۔

پیر کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

قطر نے منگل کو کہا تھا کہ ثالثی کی کوششوں کی کامیابی کے لیے ایران کو خلیجی عرب ممالک کو دھمکیاں دینا بند کرنا اور آبنائے ہرمز کھولنا ہو گا۔

مزید پڑھیں:دوبارہ مذاکرات، امریکی نائب صدر کا آئی آر جی سی کے سربراہ کو خط

رائٹرز کے مطابق جنگ کے معاشی اور سلامتی سے متعلق اثرات نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان انتخابات میں امریکی کانگریس پر کنٹرول کا فیصلہ ہونا ہے۔