بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں ایک نجی اسپتال کے دروازے سے ایک ایسے آوارہ کتے کی آمد ہوئی جس نے اپنے منہ میں 8 ماہ کا جنین دبا رکھا تھا۔پولیس نے نجی اسپتال اور ایک لیبارٹری کو سیل کرکے 14 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ جنین آٹھ ماہ کا تھا اور کتا اسے مردہ حالت میں میڈنی رائے میڈیکل کالج و اسپتال لایا تھا۔پولیس نے معاملے کی جانچ کی تو ہوشربا انکشافات سامنے آئے کس طرح انسانوں نے جس جاندار کو ’’ناجائز‘‘ قرار دیکر کچرے میں پھینک دیا اسے ایک جانور اُٹھا لایا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق قریبی نجی اسپتال میں 16 سالہ لڑکی کا اسقاطِ حمل کیا گیا تھا اور تقریباً آٹھ ماہ کے جنین کو مبینہ طور پر سرکاری اسپتال کے احاطے میں جمع کچرے پھینک دیا گیا تھا۔
جس پر محکمہ صحت کی ضلعی انتظامیہ نے اسقاطِ حمل کرنے اور مردہ نومولود کو کچرے میں پھینکنے والے اتم اسپتال اور نپن الٹراساؤنڈ مرکز کو سیل کرکے 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمے میں بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ، قبل از پیدائش تشخیصی طریقوں کے ضابطوں اور طبی اداروں سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
مزید پڑھیں:49 ہزار بلیو پاسپورٹ، کتنے پارلیمنٹیرینز ؟ کتنے بیوروکریٹس ؟ رپورٹ طلب ؟
پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور جنین کو اسپتال کے احاطے میں پھینکنے والے شخص کا پتا لگانے کے لیے نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔









