بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ گیم چینجر ہے:ترک وزیر خارجہ

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ دفاعی تعاون کے میدان میں اہم پیش رفت ہے جو خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایک اہم اور دوٹوک بیان میں کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین قائم ہونے والا ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ تینوں اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی، عسکری اور اسٹریٹجک تعاون کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخ ساز پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ باہمی دفاعی معاہدہ نہ صرف تینوں برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو بلندیوں پر لے کر جائے گا بلکہ اس کے خطے کی مجموعی سیاسی، سیکیورٹی اور دفاعی صورتحال پر بھی انتہائی گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی تین بڑی اور بااثر عسکری قوتوں کا اس طرح ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا خطے کے دفاعی توازن میں ایک حقیقی گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، جو کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ فراہم کرے گا۔

اس معاہدے کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ردِعمل، تنقید اور منفی پروپیگنڈے پر کھل کر بات کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے بھارت اور اسرائیل کی جانب سے پھیلائی جانے والی مبینہ غلط معلومات اور بے بنیاد افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن عناصر، حریف ممالک اور مخالفین کا یہ پروپیگنڈا اس معاہدے کی افادیت، سنگینی اور اس کی حقیقی اہمیت کو کسی بھی صورت میں کم نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈے اس اتحاد کے ارادوں کو کمزور نہیں کر سکتے کیونکہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کی غرض سے عمل میں لایا گیا ہے۔

ہاکان فیدان کے اس تفصیلی اور دبنگ بیان سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی، انٹیلی جنس اور عسکری تعلقات کو مزید مضبوط، مربوط اور مستحکم بنانے کے لیے عملی اقدامات اور کوششیں انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں اور عسکری ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ ان تینوں اہم ممالک کے درمیان یہ سہ ملکی دفاعی تعاون نہ صرف خطے کی مجموعی سلامتی اور امن کو یقینی بنانے میں کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کرے گا، بلکہ مستقبل میں مسلم دنیا کے لیے ایک انتہائی طاقتور، پائیدار اور موثر دفاعی شراکت داری کی مضبوط ترین بنیاد بھی ثابت ہوگا۔