بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قبائلی اضلاع میں نایاب معدنیات کے معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں، فضل الرحمان

قیمتی پتھر امریکی حکام کے دفاتر میں پیش کیے گئے، امریکی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ اس معاملے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کو طویل عرصے سے تجربہ گاہ بنایا گیا ہے، اب انضمام ختم کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں، تاہم قبائلی علاقوں کا اصل مسئلہ آئینی نہیں بلکہ وہاں موجود معدنی وسائل ہیں۔

پشاور میں ڈیجیٹل میڈیا ورکرز جمعیت فاٹا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کو تقریباً دس سال مکمل ہونے والے ہیں، لیکن اب تک وہاں بندوبستی علاقوں جیسا انتظامی نظام قائم نہیں کیا جاسکاْ۔

اعلیٰ سطح پر انہیں بتایا گیا ہے کہ انضمام کا فیصلہ غلط تھا، سوال یہ ہے کہ پہلے انضمام کا فیصلہ کس کے کہنے پر کیا گیا اور اب اسے ختم کرنے کی باتیں کس کے اشارے پر ہو رہی ہیں، یہ سب جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے بھی وہ نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں اصل مسئلہ معدنی ذخائر کا ہے ہمیں معدنیات کی تلاش اور ترقی پر کوئی اعتراض نہیں تاہم وسائل سے متعلق معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ قیمتی پتھر امریکی حکام کے دفاتر میں پیش کیے گئے اور امریکی اس بات کا اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ وہ اس معاملے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے بیانیے کی بنیاد پر کیے گئے، لیکن جیسے ہی گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہوئی، دہشت گردی کا شور بھی ختم ہوگیا، ایک ہی صوبے میں دو الگ نظام کیوں قائم کیے جا رہے ہیں؟

گورنر راج کے تحت گورنر کونسل وزیراعظم کے ماتحت ہے، جبکہ ایمرجنسی والے اضلاع وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کوہاٹ کو بھی ایمرجنسی والے اضلاع میں شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے صدر مملکت کو بھجوا دیے گئے، لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ والے دن کابینہ میں ان کی بات تک پیش نہیں کی گئی۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں اور حکمرانوں پر اعتماد کیسے کیا جائے؟ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قبائلی عوام کے خدشات دور کرے اور ان کے وسائل کے حوالے سے کیے گئے معاہدے منظرعام پر لائے۔

سیاسی ماحول پر بات کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ الزام تراشی اور کردار کشی کی مہم سے سیاسی ماحول خراب کیا جا رہا ہے ہم اختلاف رائے رکھنے والے لوگ ہیں اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں ان کے خلاف تشہیری مہم چلانے کے بجائے سیاسی بات چیت کی جائے،

انہیں گالیاں دینے اور ان کے گھر، کچن اور جنریٹر کے پیچھے پڑنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، وہ اپنے گھر آنے والے تمام لوگوں کی قدر کرتے ہیں۔

خواجہ آصف سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ان کے محترم اور بڑے بھائی ہیں، انہوں نے خواجہ آصف کو صرف تھوڑی سی گدگدی کی تھی، لیکن انہیں غصہ اگلے روز آیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دوسرے دن مکا اٹھایا تو اسے اپنے ہی چہرے پر مارنا چاہیے تھا، کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے اسی روز ایوان میں انہیں جواب دے دیا تھا۔ ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاہم جواب دینا ہمیں بھی آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وسائل ہیں اور آپ کے پاس ٹیکنالوجی، اس لیے کھل کر عوام کے سامنے آئیں اور معاہدے کریں، گورنر کی جانب سے انہیں افغانستان جانے کا مشورہ دینے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ماضی میں آپ بھی انگریزوں کے ماتحت تھے تو پھر آپ بھی برطانیہ چلے جائیں۔

مزید پڑھیں:امریکی وسط مدتی انتخابات: عالمی کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ڈالر مستحکم

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اب بھی ملک میں صحت مند سیاسی ماحول دیکھنا چاہتے ہیں، لانگ مارچ کے معاملے پر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا طریقہ خود وزیراعظم نے انہیں بتایا تھا، جبکہ تحریک انصاف کے سامنے بھی یہ تجویز رکھی گئی تو انہوں نے بھی اس پر اپنا مؤقف اختیار کیا، ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ ریاست قبائلی عوام کے خدشات دور کرے اور انہیں اپنے وسائل پر اعتماد میں لے۔