پاکستان مسلم لیگ (ن)(PMLN) خیبر پختونخوا کی قیادت اور منتخب اراکین کو صوبے کے نئے سیٹ اپ میں شمولیت کے آثار کم ہوتے نظر آئے جب محکمے دوبارہ پہلے سے موجود کونسل ممبران کو دیے گئے، لیکن ان کی تمام تر امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب وزیراعظم نے لال جھنڈی دکھا دی۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف کے ساتھ ن لیگ خیبر پختونخوا کی قیادت کی تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں صوبائی قیادت کے علاوہ احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور دیگر بھی موجود تھے۔
‘پرامید ہوئے لیکن مایوس واپس لوٹے’
اجلاس میں شرکت کرنے والے ن لیگ خیبر پختونخوا کے ایک رکن اسمبلی نے بتایا کہ صوبائی قائدین میٹنگ کے حوالے سے انتہائی پُرامید اور پُرجوش تھے اور ان کا خیال تھا کہ تقریباً 13 سال بعد صوبے میں ان کی جماعت کو اقتدار تک رسائی ہوئی ہے تو انہیں بھی کونسل میں شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ منتخب اراکین اور ایک خاتون رکن کو تو یقین تھا کہ ان کی شمولیت ہوگی، لیکن وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ کے شروع میں ہی سب کی امیدیں دم توڑ گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے شروع میں اراکین نے صوبے میں سیاسی مخالف حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کیا اور خواہشات کا اظہار کیا کہ حکومت ملنے کے بعد صوبے میں پارٹی کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی، لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے شروع میں ہی صوبائی قیادت کو واضح کیا کہ صوبے کے سیٹ اپ سے صوبائی قیادت کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف نے کہا کہ صوبے میں سیٹ اپ محض بیوروکریٹک ہے، سیاسی نہیں۔ ن لیگ کے رکن کے مطابق شہباز شریف نے اجلاس میں بتایا کہ صوبائی قیادت نئے سیٹ اپ کی مکمل حمایت کرے گی، لیکن بدلے میں انہیں کچھ نہیں ملے گا۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی چاول نے عالمی منڈی میں دھوم مچا دی، ویتنام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا!
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اراکین نے شکایات کے انبار لگا دیے اور گلہ کیا کہ 13 سالوں میں انہیں ترقیاتی فنڈز سے محروم رکھا گیا اور پی ٹی آئی حکومت میں انہیں نظر انداز کیا گیا۔
وزیراعظم کی اراکین کو فنڈز دینے کی یقین دہانی
اجلاس میں شرکت کرنے والے رکن نے بتایا کہ فنڈز کے معاملے پر وزیراعظم نے کافی حد تک نرمی دکھائی اور بتایا کہ ان کی اسکیمیں شامل کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف نے کہا کہ انہیں فنڈز وفاق کی جانب سے دیے جائیں گے، تاہم صوبے کو ملنے والے 160 ارب روپے کے پیکج میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق ترقیاتی کاموں اور فنڈز کے لیے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی گئی، جس میں صوبائی رہنما بھی شامل ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے منتخب اراکین اور قیادت کو ہدایت کی کہ اپنے متعلقہ حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی نشاندہی کریں اور کمیٹی کے ذریعے انہیں ترقیاتی اسکیموں میں شامل کرکے فنڈز دیے جائیں گے۔
‘یہ مکمل غیر سیاسی سیٹ اپ ہے’
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی پارٹی قیادت کو واضح طور پر بتا دیا کہ خیبر پختونخوا میں نیا سیٹ اپ مکمل غیر سیاسی ہے اور ماہرین پر مشتمل ہے۔
وزیراعظم کے سامنے ن لیگ کی رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کی شمولیت پر سوالات اٹھائے گئے، جس پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ ثمر ہارون بلور بھی سیاسی طور پر شامل نہیں ہوئی ہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ان کی قربانیوں اور صوبے میں اہم کردار کے باعث انہیں شامل کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو واضح کیا کہ وہ نئے سیٹ اپ کی مکمل حمایت کریں اور پی ٹی آئی کا ہر ممکن مقابلہ کریں۔
ن لیگ کے رکن کے مطابق طویل اجلاس صوبائی قیادت کی مایوسی پر ختم ہوا، جو اقتدار میں شمولیت کے لیے پُرامید تھی۔









